مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 79 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 79

29 اور اس میں اس سوال کے دو جواب بھی دیئے ہیں۔پھر وہ دونوں جواب بھی سنائے۔مگر وہ جواب بہت ہی کمزور تھے جن کے متعلق مولوی صاحب نے خود فرمایا کہ یہ بہت کمزور ہیں اور آپ کا جواب بہت صحیح ہے اور یہ لوگ تو آپ سے کبھی نہ مانتے جب تک یہی جواب نہ سنتے جو کتاب میں لکھے ہوئے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے سوچ کر جواب دیا ہے۔مجھ کو مولوی صاحب کی تقریر سے خوشی ہوئی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب شرح جامی تک کی کتابیں میں نہیں پڑھوں گا۔اس واسطے ملاحسن۔مشکوۃ۔اصول شاشی شرح وقایہ اور میبذی مختلف استادوں سے شروع کیں۔میبذی پڑھنے میں مجھے کو بڑا ہی تعجب ہوا کرتا تھا کیونکہ جس چیز کو میں نہیں سمجھتا تھا اس کو ہمارے استاد بھی نہیں سمجھتے تھے۔اس واسطے جتنی کراہت ممکن تھی میرے دل میں اس کتاب کی نسبت پیدا ہو گئی۔یہاں آکر مجھے اتنا افسوس ہوا کرتا ہے کہ اگر ہندوستان کے مسلمان تعلیمی درسی کتابیں سوچ سمجھ کر مقرر کیا کریں اور پھر ان کے امتحان بھی ہوا کریں اور اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ طالب علم دین و دنیا دونوں میں ترقی کر سکیں تو قوم پر کتنا بڑا احسان ہو۔الگ الگ درس گاہیں بڑی دقت میں ڈالتی ہیں۔سب سے بڑی دقت جو مجھ کو محسوس ہوئی یہ ہے کہ نہ تو استاد صلاح دیتے ہیں کہ کیا پڑھنا چاہیئے اور نہ طالب علم اپنے حسب منشاء آزادی کے ساتھ اپنے ان قومی کے متعلق جو خدا تعالیٰ نے عطا کئے ہیں کسی کتاب کے انتخاب کی جرات کر سکتا ہے نیز اخلاق فاضلہ کی تعلیم و تاکید نہیں ہوتی۔میں اپنی تحقیق سے کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں کسی استاد میں یہ بات نہ دیکھی۔ان باتوں کا رنج مجھے اب تک بھی ہے۔کس قدر رنج ہوتا ہے جب کہ میں غور کرتا ہوں کہ اس وقت ہمارے افعال اقوال ، عادات اخلاق پر کبھی ہمارے معلموں میں سے کسی نے نوٹس نہ لیا۔بلکہ عقائد کے متعلق بھی کبھی کچھ نہ کہا۔مجھے تو یہ بھی یاد نہیں کہ مشکوۃ میں ہی ہمارے اخلاق پر توجہ دلائی گئی ہو۔رامپور میں تین باتیں بڑی قابل غور ہیں۔ایک یہ کہ شاہ جی عبد الرزاق صاحب ایک بزرگ تھے۔میں ان کی خدمت میں اکثر جایا کرتا تھا۔ایک زمانہ میں مجھ سے سستی ہوئی اور