مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 2 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 2

اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ میری اس دعا کا نتیجہ ہے۔جو میں ہمیشہ کیا کرتا تھا اور میری فراست نے مجھے بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے منتخب بندوں میں سے ہے اور میں لوگوں کی مدح کرنا اور ان کے شمائل کی اشاعت کرنا اس خوف سے برا سمجھتا تھا کہ مبادا انہیں نقصان پہنچائے مگر میں اسے ان لوگوں سے پاتا ہوں جن کے نفسانی جذبات شکستہ اور طبعی شہوات مٹ گئی ہیں اور ان کے متعلق اس قسم کا خوف نہیں کیا جا سکتا۔وہ میری محبت میں قسم قسم کی ملامتیں اور بد زبانیاں اور وطن مالوف اور دوستوں سے مفارقت اختیار کرتا ہے اور میرا کلام سننے کے لئے اس پر وطن کی جدائی آسان ہے اور میرے مقام کی محبت کے لئے اپنے اصلی وطن کی یاد بھلا دیتا ہے اور ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتا ہے جیسے نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہے۔- ( ترجمه از عربی عبارت مندرجہ " آئینہ کمالات اسلام" روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۸۱ تا ۵۸۶) اس میں شک نہیں کہ آپ کو یہ فخر حاصل ہے کہ آپ قصر احمدیت کی پہلی بنیادی ایس ہیں جو نہایت خوش نما اور اس قصر کے حسن و جمال کی رونق کا باعث ہے لیکن مجھے پیش لفظ میں آپ کے محاسن و فضائل اور آپ کی خدمات جلیلہ اور عظیم الشان قربانیوں کا ذکر کرنا مقصود نہیں کیونکہ یہ کتاب ان امور سے معمور ہے۔مگر میں اس جگہ ایک بات کا ذکر کرنا ضروری خیال کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے ایک مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تلہی تعلق اور اخلاص و محبت کا ذکر کر کے اور یہ لکھ کر کہ ”میں آپ کی راہ میں قربان ہوں جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے " لکھا ہے۔” دعا فرمائیں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو "