مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 70
ان کا بہ سبب دلیل قول اللہ تعالٰی کے بَل رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ۔اور مقدم کیا اس پاک ذات اللہ جل شانہ نے اپنے وعدہ میں ان کی وفات کو۔اور جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے مقدم کیا ہے۔ہم بھی مقدم کرتے ہیں۔جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے موخر کیا ہم بھی موخر کرتے ہیں۔پھر فرمایا اللہ جل شانہ نے اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَانَّا اَحْيَاء وَاَمْوَاتًا اور فرمایا اللہ تعالی نے مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔پس گزر گئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی جس طرح کہ گزر گئے باقی رسول علیہم الصلوۃ والسلام- اور یہ بات کہ حضرت عیسی بن مریم جو کہ اترنے والے ہیں اترے۔صلوٰۃ اللہ کی اوپر ان کے اور سلام۔پس تحقیق اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہمارے لئے قرآن شریف کی سورہ نور میں کہ اللہ تعالی خلیفہ کرے گا اس شخص کو جو خلیفہ ہو گا ہم میں سے۔اور تصریح فرمائی ہے ہمارے رسول نے جو کہ سردار ہیں اولین و آخرین کے اور سردار ہیں اولاد آدم علیہ الصلوۃ و السلام کے کہ تحقیق امام ہو گا تمہارا تم میں سے نازل ہونے والا۔اور شہادت دی اللہ جل شانہ اور اس کے ملائکہ نے اور صاحب علم نے کہ تحقیق وہ وہی ہے۔اور شہادت دی شمس و قمر نے کہ تحقیق وہ مہدی ہے۔اور طاعون اور جدب اور قبال نے کہ تحقیق وہ مرسل ہیں جیسا کہ فرمایا وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْنَهُمْ بِالْبَاسَاء وَالضَّرَّاء اور فائز ہونا اس کا اور فلاح پانا اس کا مقابلہ میں مخالفوں کے آریہ - براہمہ - نصاری - سکھ۔علماء اور متصوفین اور حکام اور اقارب اس کے اور بنی عم اس کے ببكرة ابیھم اس طرح کہ وہی مطاع ہے اور پائے گا تو اس کو اور نصرت اس کی کو کہ تحقیق وہ اوپر حق کے ہے۔تم کلامه اس مقدمہ میں میں نے جو جو کچھ لکھنا چاہا تھا نیز سلسلہ ترتیب جس تفصیل کا مقتضی ہے گنجائش اوراق اس کے لئے قلیل اور لکھنے کی قابل باتیں بہت طویل ہیں۔لہذا یہاں تک