مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 69
44 اس حدیث شریف کے کہ صلح کرائے گا اللہ تعالیٰ بہ سبب اس کے مسلمانوں کے دو گروہوں میں۔اور دوست رکھتا ہوں میں اس کے بھائی حسین کو جو سردار ہیں جو انان اہل جنت کے مقتول ہوئے بحالت غربت، مظلوم شہید اور بغض رکھتا ہوں میں ان کے مقابلہ میں عنيد ذات الخيبة ہے۔اس تحقیق حال یہ ہے کہ نہیں تعریف کی اس کی کسی نے بھلائی کے ساتھ بلکہ تا کی اس کی شرارت کی۔اور دوست رکھتا ہوں میں عشرہ مبشرہ کو اور ست رکھتا ہوں میں اصحاب بدر کو۔اور دوست رکھتا ہوں میں اصحاب بیعت الرضوان کو اور جو شخص کہ مقتول ہو ا جنگ احد میں اور تمام ان شخصوں کو کہ جن کی بشارت دی ہمارے سردار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور پڑھا ہے ہم نے ان کو صحاح میں۔بلکہ دوست رکھتا ہوں میں اس شخص کو بھی کہ جو اسلام لایا آپ کے ہاتھ پر کہ جو کریم ہے اور مرگیا اوپر اسلام کے مثلا معاہ یہ مغیرہ بن شعبہ۔نہیں جھوٹ بولا ان میں سے کسی نے امر دین میں رسول اکرم سے۔اور نہیں تھا کوئی ان میں سے بھرا۔اور چھوڑ دیا ہے میں نے ، جب سے ہوش سنبھالا روافض- شیعہ - خوارج معتزلہ کو اور ایسے مقلد جامد کو جو چھوڑنے والے ہیں نصوص قرآن و سنت کو اور احادیث صحیحہ ثابتہ کو واسطے ایک شخص کے قول کے۔والْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اور باوجود ان باتوں کے دوست رکھتا ہوں میں ابو حنیفہ - مالک - شافعی" - احمد - محمد اسماعیل بخاری اور اصحاب سنن۔فقہا اور محدثین کو۔رحم کرے اللہ تعالیٰ ان پر۔اور تعظیم کرتا ہوں میں اس چیز کی جو اوپر ان کے ہے اور ان کی اتباع کرنے کو میں دوست رکھتا ہوں۔پس تحقیق وہی لوگ سردار ہیں اور شاکرتا ہوں میں او پر ان کے بہتری کی اور محتاج ہوں میں ان کی تحقیقات کی طرف۔اور باوجود اس کے تقدم کرتا ہوں میں جس شخص کو مقدم کیا اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے۔اور اعتقاد رکھتا ہوں میں یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان کے اپنی طرف رفع کرنے سے پہلے وفات دی جیسا کہ وعدہ کیا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَی اور نہیں قتل ہوئے اور نہیں صلیب دئیے گئے۔اور ثابت ہوا رفع