مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 41
۴۱ طرح ہو گئے۔پھر انہوں نے دوبارہ حملہ کرنا چاہا لیکن مردے موت کے بعد کس طرح زندہ ہو سکتے ہیں، لرزتے ہوئے واپس چلے گئے۔اگر ان کے لئے حیاء میں سے کچھ بھی حصہ ہوتا تو وہ دوبارہ حملہ نہ کرتے لیکن بے حیائی سے اس قوم کا حلیہ اس طرح ہو گیا ہے جس طرح مجل گھوڑوں میں تجھیل۔پس وہ ذبح کئے ہوؤں کی طرح حملہ کرتے ہیں۔اور فاضل نبیل موصوف میرے سب سے زیادہ محبت کرنے والے دوستوں میں سے ہے۔وہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے میری بیعت کی ہے اور عقد نیت کو میرے ساتھ خالص کر دیا ہے اور جنہوں نے عہد کا سودا مجھے اس بات پر دیا۔کہ وہ خدا تعالیٰ پر کسی کو مقدم نہ کریں گے۔پس میں نے اس کو ان لوگوں میں سے پایا ہے جو اپنے عہدوں کی محافظت کرتے اور رب العالمین سے ڈرتے ہیں اور وہ اس پر شرر زمانہ میں اس ماء المعین کی طرح ہے جو آسمان سے نازل ہو تا ہے۔جس طرح اس کے دل میں قرآن کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ایسی محبت میں اور کسی کے دل میں نہیں دیکھتا۔وہ قرآن کا عاشق ہے اور اس کی پیشانی میں آیات مبین کی محبت چمکتی ہے۔اس کے دل میں خدا تعالی کی طرف سے نور ڈالے جاتے ہیں۔پس وہ ان نوروں کے ساتھ قرآن شریف کے وہ دقائق دکھاتا ہے جو نہایت بعید و پوشیدہ ہوتے ہیں اور اس کی اکثر خوبیوں پر مجھے رشک آتا ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کی عطا ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔اور وہ خیر الرازقین ہے۔اور خدا تعالیٰ نے اس کو ان لوگوں میں سے بنایا ہے جو قوت و بصارت والے ہیں اور اس کے کلام میں وہ حلاوت و طلاوت و دیعت کی گئی ہے جو دوسری کتابوں میں نہیں پائی جاتی۔اور اس کی فطرت کے لئے خدا تعالیٰ کے کلام سے پوری پوری مناسبت ہے۔خدا تعالی کے کلام میں بے شمار خزانے ہیں۔جو اس بزرگ جو ان کے لئے ودیعت رکھے گئے ہیں۔اور یہ