مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 42
سم اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔اس کے لئے کوئی اس کے رزقوں میں جھگڑنے والا نہیں۔کیونکہ اس کے بندوں میں سے بعض وہ مرد ہیں جن کو تھوڑی سی نمی دی گئی ہے اور دوسرے کئی آدمی ہیں جن کو بہت سا پانی دیا گیا ہے اور وہ اس کے ساتھ حجت بازی کرنے والے ہیں۔مجھے میری زیست کی قسم ہے کہ وہ بڑے بڑے میدانوں کا مرد ہے۔اس کے لئے کسی کا یہ قول صادق آتا ہے لِكُلِّ عِلْمٍ رِجَال وَلِكُلِّ مَيدَانِ أَبْطَال اور نیز یہ بھی صادق آتا ہے۔إنَّ فِي الزَّوَايَا خَبَايَا وَفِي الرِّجَالِ بَقَايَا خدا تعالیٰ اس کو عافیت دے اور اس کو محفوظ رکھے۔اور اس کی عمر کو اپنی رضامندی اور اطاعت میں لمبا کرے اور اس کو مقبولین میں سے بنائے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس کے لبوں پر حکمت بہتی ہے اور آسمان کے نور اس کے پاس نازل ہوتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ مہمانوں کی طرح اس پر نزول انوار متواتر ہو رہا ہے۔جب کبھی وہ کتاب اللہ کی تاویل کی طرف توجہ کرتا ہے تو اسرار کے منبع کھولتا ہے اور لطائف کے چشمے بہاتا ہے اور عجیب و غریب معارف ظاہر کرتا ہے جو پردوں کے نیچے ہوتے ہیں۔دقائق کے ذرات کی تدقیق کرتا ہے اور حقایق کی جڑوں تک پہنچ کر کھلا کھلا نور لاتا ہے۔عقل مند اس کی تقریر کے وقت اس کے کلام کے اعجاز اور عجیب تاثیر کی وجہ سے تعلیم کے ساتھ اس کی طرف اپنی گردنوں کو لمبا کرتے ہیں۔حق کو سونے کی ڈلی کی طرح دکھاتا ہے اور مخالفین کے اعتراضات کو جڑ سے اکھیڑ دیتا ہے۔موجودہ زمانہ فلسفہ کے طوفانی حملہ کا وقت تھا جس نے فاسد اور گندہ کر دیا اور اضطراب میں ڈال دیا۔ہر ایک جو ان کو اس چیز نے جو واقع ہوئی اور علماء علوم روحانیہ کی دولت اور اسرار رحمانیہ کے جو اہرات سے بے گوشت ہڈی کی طرح خالی ہاتھ رہ گئے۔پس یہ جو ان کھڑا ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشمنوں پر