مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 297 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 297

۲۹۷ اور بیوی سے کہا کہ نورالدین سے میں نے آج ایک بات سنی ہے اس کو صرف آزمانا چاہتا نہوں ورنہ میں تجھ سے ناراض بہت ہوں۔اسی وقت عورت سے ہم بستر ہوا۔ایک لڑکا ہوا۔پھر دوسرا ہوا۔پھر تیسرا۔پھر چو تھا۔وہ عورت یہاں بھی آئی تھی۔میں نے کہا کیسے آئیں ؟ کہا کہ یہ کنبہ دکھانے آئی ہوں کیونکہ تمہاری کسی نصیحت سے میرا خاوند میری طرف متوجہ ہوا تھا۔غرض کہ میرا قرآن سنانا بیکار نہ گیا۔(۲۰ / دسمبر ۱۹۰۶ء) میں نے ایک مرتبہ کسی کا علاج کیا۔ایک بڑھیا نے نذرانہ میں مجھ کو سکھوں کے وقت کا تانے کا ایک پیسہ دیا۔میں نے نہایت خوشی اور شکر گذاری کے ساتھ لے لیا اور اپنے دل میں سوچا کہ میں اس کو اگر خدا کے نام پر کسی کو دے دوں تو کم سے کم اس ایک پیسہ کے سات سوچیے بنا سکتا ہوں۔مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللون (سوره بقره رکوع ۳۶) (۲۱) دسمبر ۱۹۰۶ء) جموں میں ایک پٹھان تھے۔وہ میرا لحاظ بھی بہت کرتے تھے۔ایک مرتبہ مجھ کو اپنی نبض دکھائی۔میں نے دیکھا کہ نبض نہایت ہی کمزور چلتی ہے۔میں نے ان سے کہا کہ کیا تم نے عیاشی کی ہے؟ کہنے لگے کہ مولوی صاحب آپ کی مجلس میں ایک مرتبہ زنا کی برائی سن کر میں نے تو زنا سے بالکل تو بہ کرتی ہے اور اب قطعا زنا کے پاس نہیں پھٹکتا۔میں نے کہا اچھا اور کسی ذریعہ سے آپ کی منی خارج ہوئی ہے ؟ کہا کہ ہاں یہ بات تو ضرور ہے کیونکہ میں نے اسی روز سے دولڑ کے رکھ لئے ہیں ان کے ساتھ اعلام کرتا ہوں۔میں نے کہا کہ خان صاحب کیا یہ زنا نہیں ہے؟ کیا مولوی صاحب وہ دونوں لڑکے ہندوؤں کے ہیں اور ہندوؤں میں بھی برہمنوں یعنی مہاراج کے پجاریوں کے۔بھلا مسلمانوں کے لڑکوں کے ساتھ یہ کام کر