مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 203 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 203

تقرب کے متعلق کوئی مدعا نہیں ہوتا۔(۹/ اپریل ۱۹۱۲ء) میں مدرسہ میں پڑھنے جایا کرتا تھا۔اس کے راستہ میں ایک شخص بٹیر لڑایا کرتا تھا۔میں نے وہ اس سے خرید لیا۔گھر لایا تو بڑا خراب تھا۔میں اس کے پاس لے گیا۔اس نے کہا کہ تم نے خراب کر دیا ہے۔دوسرا لے جاؤ۔وہ بھی بڑا تیز معلوم ہو تا تھا۔گھر جا کر وہ بھی بہت خراب تھا۔ایک شخص نے مجھ کو بتایا کہ یہ لوگ شراب پلا کر ان کو ایسا بنا دیتے ہیں۔وہ شخص اب بھی میرا ادب کرتا ہے۔میں اس کو بھی اپنا استاد ہی سمجھتا ہوں کہ اس نے مجھے بتا دیا کہ دھوکوں سے بچو۔(۳۰) مئی ۱۹۰۹ء) جب میں راولپنڈی میں آیا تو ہمارے مکان کے قریب ایک انگریز الیگز نڈھسر کی کو بھی تھی۔ایک شخص مجھ کو وہاں لے گیا۔اس نے میزان الحق اور طریق الحیوۃ دو کتابیں بڑی خوبصورت چھپی ہوئی مجھ کو دیں۔میں نے ان کو خوب پڑھا۔میں بچہ ہی تھا لیکن قرآن کریم سے اس زمانہ میں بھی مجھ کو محبت تھی۔مجھ کو وہ دونوں کتابیں بہت لچر معلوم ہو ئیں۔اس وقت ان کے روح القدس کو بھی نہیں جانتا تھا۔میں نے دیکھا ہے کہ خدا تعالیٰ سے دعا ئیں مانگنے والے مباحثات میں کبھی عاجز نہیں ہوتے۔(۲۰ / مئی ۱۹۰۹ء) ہمارے خاندان کی ایک عورت بیوہ ہو گئی۔اس نے کسی شخص سے شادی کرنی چاہی۔اس شخص نے جس کے ساتھ شادی ہونے والی تھی مجھ کو لکھا کہ کیا آپ خوشی سے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس سے شادی کرلوں؟ میں نے کہا۔ہاں ! بڑی خوشی سے اور بڑی مبار کی