مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 202
شب چو عقد نماز بر بندم چه خور و بامداد فرزندم یہ کوئی ساتویں صدی کی بات ہے۔اب تو چودھویں صدی ہے۔میں کبھی اس آیت کو پڑھا کرتا ہوں کہ اللهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيْهِ وَالنَّهَارِ مُبْصِرًا ان اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ اور پھر تعجب کے ساتھ اس شعر کو پڑھتا ہوں۔رات کے وقت بھی دنیا کے تفکرات کو نہ چھوڑنا فضول ہے۔مومن کو چاہئے کہ برات کو سکون کرے۔(۷ار مارچ ۱۹۱۲ء) ہمارے شہر میں ایک بڑا پہلوان عظیم شاہ آیا۔ہمارے ایک دوست (نجم الدین کے بھائی نے ہم سے کہا کہ آؤ ، اکھاڑے میں چلیں ، کشتی لڑیں گے۔ہم جب وہاں پہنچے تو میں نے دیکھا کہ عظیم شاہ پہلوان پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے ہاتھوں سے چل رہا ہے۔مجھ کو یہ نظارہ دیکھ کر بڑی نفرت ہوئی۔کہا کہ افمن يمشى مكبا على وجهه۔ہمارے دوست تو لنگو ٹا باندھ کر دھڑام سے اکھاڑے میں داخل ہوئے اور میں وہاں سے چلا آیا۔(۱۰/ نومبر ۱۹۰۸ء) مجھ کو بچپنے میں شوق تھا کہ اس دریا پر جو ہمارے شہر کے قریب ہے جا کر بہت تیر تا تھا۔میں نے سردیوں کے موسم میں ایک مرتبہ اس دریا کے قریب ایک فقیر کو ننگے بدن صرف ایک کھال کے اوپر بیٹھے ہوئے دیکھا۔میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور اس سے دریافت کیا کہ تم کو سردی کیوں نہیں معلوم ہوتی ؟ اس نے کہا کہ سنکھیا کھاتا رہتا ہوں اور اور بھی گرم چیزیں استعمال کرتا ہوں۔جلد پر راکھ ملتے ملتے ایک تہہ جم گئی ہے۔جلد کے مسامات بھی بند ہو گئے ہیں اس لئے سردی نہیں معلوم ہوتی۔اس قسم کے لوگوں کا خدا تعالی کے حصول اور