مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 161 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 161

141 ہیں جاتے کہاں ہیں؟ میں نے سختی سے جواب دیا کہ تم لوگ بد عہد ہو۔بد عہدوں میں رہنا مجھے پسند نہیں۔وہ اس بھید کو سمجھ گئے کہ افسر نزول ایک بد عہد آدمی ہے ان کے ساتھ آدمی بہت تھے۔انہوں نے اپنے آدمیوں سے کہا سب اسباب کو اٹھا کر ہمارے مکان میں لے جاؤ۔میں نے کہا کہ مجھے اس شہر میں رہنا پسند ہی نہیں۔لیکن انہوں نے ایک نہ مانی اور سب اسباب اپنے مکان پر بھجوا دیا۔میں نے ان سے کہا کہ میرے رکھنے میں آپ کو بڑی تکلیف ہوگی۔کیونکہ یہاں دو فلاں فلاں آدمی ہیں جن کو مجھ سے نظار ہے اور چونکہ دونوں بڑے آدمی ہیں اور میرے ساتھ خاص طور پر نقار رکھتے ہیں۔پس مناسب نہیں ہے کہ میرے سبب آپ درباری آدمیوں سے مخالفت پیدا کریں۔میں نے مختلف پہلوؤں سے سمجھایا۔لیکن وہ کہنے لگے کہ ہم کچھ پروا نہیں کرتے۔چنانچہ وہ مجھ کو اپنے گھر لے گئے اور دس برس اپنے مکان میں رکھا۔مجھ کو یا میرے طالب علموں یا میرے مہمانوں کو اس دس برس میں کوئی بھی شکایت کا موقع نہ ملا۔میں اب تک انکے وسعت حوصلہ پر حیران ہوں اور مجھے کو افسوس ہوتا ہے کہ میں اتنازی حوصلہ نہیں اور یہ بات ان کی ذات ہی سے وابستہ نہیں تھی بلکہ ان کے گھر کے تمام چھوٹے بڑے سب ایک ہی رنگ میں رنگین دیکھے۔جب میں وہاں تھا تو میں نے ایک شادی اس زمانہ میں کی جب میری بیوی گھر میں آئی تو ان کی بہن نے اس کے ساتھ ایسے نیک سلوک کئے جیسے ایک ماں اپنی بیٹی سے کرتی ہے۔جموں میں میاں لعل دین نام ایک ممتاز رئیس تھے۔ان کی لڑکی کو زحیر کاذب ہوئی اور اطباء نے قوابض سے کام لیا۔مریضہ کی حالت بہت رڈی ہو گئی۔میاں لعل دین کو مجھ سے مذہبی رنج تھا۔ادھر بیمار کی نسبت یاس کچھ اطباء نے بھی مددہی کی ہوگی۔مجھے علاج کے لئے بلایا۔”عدو شود سبب خیر گر خدا خواہد " میں نے اس کو اس حال میں دیکھا کہ پٹ پڑ ( جب چنا اپنے خول میں ہوتا ہے تو اس کو پٹ پڑ کھتے ہیں) کی طرح اس میں غلاظت ہے۔مجھے یقین ہوا کہ زمیر کاذب ہے اور علاج میں غلطی ہوتی ہے۔مگر میں خطرناک حالت میں جرأت نہ کر سکا کہ کوئی امر ظاہر کروں۔اس وقت مجھے طب جدید نے یہ فائدہ دیا کہ موجودہ طبیب جو اس