مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 137 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 137

گئی تھی۔اب میں خوشی سے اس قدر جوش میں آگیا کہ میں بیٹھ نہیں سکا اور میرے دل میں یہ بات جوش زن ہو گئی کہ بہر حال یہ عالم آدمی ہے اور بڑا ہوشیار ہے۔اس نے ضرو را تھی طرح دیکھ بھال لیا ہو گا۔لیکن اب تو وہ لفظ دلائل الخیرات میں موجود نہیں۔ہو نہ ہو یہ وارزقنا كا لفظ خدا تعالیٰ نے کاٹ دیا ہے۔میں نے کھڑے ہو کر بڑی بلند آواز سے کہا کہ تم نے بنی اسرائیل میں ایک لڑکے کا قصہ سنا ہو گا کہ وہ توریت پڑھتا تھا اور جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام آتا تھا تو کاٹ دیتا تھا۔اور پھر خود بخود قدرت خدا سے اس میں نام لکھا جاتا تھا۔سب نے کہا کہ ہاں۔ہم نے یہ قصہ سنا ہے میں نے کہا وہاں تو کاٹا ہوا پھر لکھا جاتا تھا اور یہاں خدا تعالیٰ نے لکھا ہوا کاٹ دیا۔اس دلائل الخیرات کو دیکھو۔اس میں وارزقنا کا لفظ کٹ گیا ہے وہ لوگ تو پہلے ہی دلائل الخیرات میں اس دعا کو دیکھ چکے تھے که وارزقنا کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے۔سب اٹھ اٹھ کر اور جھک جھک کر دیکھنے لگے۔اور اس بات سے غافل (کہ پہلے انہوں نے کونسے صفحہ پر یہ دعادیکھی تھی اور اب یہ ساتواں صفحہ تھا) حیران و ششدر رہ گئے۔میری تیز زبانی اور طاقت اور بھی بڑھ گئی۔پیر صاحب فوراً سمجھ گئے اور انہوں نے پہلو بدل کر کہا کہ یہ مولویوں کی بحث ہے۔ہم اس کو نہیں جانتے۔مسئلہ دراصل وہ جو ہم دریافت کریں۔تم یہ بتاؤ کہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی شيئًا لله پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟ میں اپنے مولا کی حمد کس طرح بیان کروں اور میری کیا ہستی ہے کہ اس کے فضل و کرم اور تصرفات پر قربان ہو جاؤں۔میں نے ان سے کہا کہ پیر صاحب آپ تو یا شیخ الخ کے وظیفہ کا مسئلہ دریافت کرتے ہیں پہلے اپنے مولویوں سے یہ تو پوچھو کہ وہ جناب شیخ کو قطعی جنتی بھی مانتے ہیں یا نہیں ؟ پیر صاحب نے کہا۔ہاں یہ انصاف کی بات ہے۔وہاں بہت سے مولوی موجود تھے۔سب نے متفق ہو کر کہا کہ سوائے عشرہ مبشرہ کے ہم کسی کو قطعی جنتی نہیں جانتے۔میں نے پیر صاحب کو کہا کہ یہ تو آپ کے باپ کو وہ شیخ عبد القادر جیلانی کی اولاد میں سے تھے) جنتی بھی نہیں مانتے۔شیئًا اللہ کا وظیفہ کیا۔انہوں نے بہت گھبرا کر اور بڑی حیرت کے لہجہ میں کہا۔”ارے او مولویو یہ کیا کام