مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 7
نے نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے۔پس مجھ کو نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا اور نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا ہوں اور اس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں اور نہ اب کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا ء کو مجھ سے چھین لے۔اب سوال ہو تا ہے کہ خلافت حق کس کا ہے؟ ایک میرا نہایت ہی پیارا محمود ہے جو میرے آقا اور محسن کا بیٹا ہے۔پھر دامادی کے لحاظ سے نواب محمد علی کو کہدیں۔پھر خسر کی حیثیت سے ناصر نواب صاحب کا حق ہے یا ام المومنین کا حق ہے جو حضرت صاحب کی بیوی ہیں۔یہی لوگ ہیں جو خلافت کے حق دار ہو سکتے ہیں۔مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جو لوگ خلافت کے متعلق بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا حق کسی اور نے لے لیا ہے۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ سب کے سب میرے فرمانبردار اور وفادار ہیں اور انہوں نے اپنا دعویٰ ان کے سامنے پیش نہیں کیا۔۔۔مرزا صاحب کی اولاد دل سے میری فدائی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جتنی فرمانبرداری میرا پیارا محمود- بشیر- شریف - نواب ناصر - نواب محمد علی خاں کرتا ہے تم میں سے ایک بھی نظر نہیں آتا۔میں کسی لحاظ سے نہیں کہتا بلکہ میں امر واقعہ کا اعلان کرتا ہوں۔ان کو خدا کی رضا کے لئے محبت ہے۔بیوی صاحبہ کے منہ سے بیسیوں مرتبہ میں نے سنا ہے کہ میں تو آپ کی لونڈی ہوں۔۔۔۔۔۔میاں محمود بالغ ہے اس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرماں بردار ہے۔ہاں ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ سچا فرماں بردار نہیں۔مگر نہیں۔میں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرماں بردار ہے اور ایسا فرماں بردار کہ تم (میں سے) ایک بھی نہیں۔جس طرح علی - فاطمہ - عباس نے ابو بکر کی بیعت کی تھی اس سے بھی بڑھ کر مرزا صاحب کے خاندان نے میری