مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 93
۹۳ بلوایا۔میں جب آیا تو مجھ کو آتے ہوئے دیکھ کر مفتی صاحب ہنس پڑے اور کہا کہ آؤ صاحب ہم اب آپ کی منت کرتے ہیں کہ آپ پڑھیں۔معلوم ہوا کہ حدیث شریف میں جو آیا ہے کہ طالب علم کے لئے فرشتے پر بچھاتے ہیں ، یہ بہت صحیح ہے۔باری خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے سبق مجھ کو شروع کرایا۔ہم کچھ نخرہ بھی کرتے رہے مگر یہ شکایت میں اب تک بھی کرتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ میں بڑے بڑے علماء کی خدمت میں جاتا تھا کسی نے نہ تو اخلاقی تعلیم دی اور نہ کسی کتاب کا مشورہ دیا۔نہ آئندہ کی ضرورتوں سے آگاہ کیا۔ایک مرتبہ طالب علموں میں مباحثہ ہوا کہ اہل کمال اپنا کمال کسی کو بتاتے ہیں یا نہیں ؟ میرا دعوی تھا کہ اہل کمال تو اپنا کمال سکھانے اور بتانے کے لئے تڑپتے ہیں مگر کوئی سیکھنے والا نہیں ملتا۔باقی تمام طالب علم کہتے تھے کہ سیکھنے والے بہت ہیں مگر وہ سکھاتے ہی نہیں۔میں نے کہا تم یوں تو مانتے نہیں اور نہ تم ہارنا جانتے ہو۔کوئی صاحب کمال بتاؤ۔اس کے پاس چل کر اسی سے فیصلہ کرا ئیں۔سب نے بالا تفاق کہا کہ یہاں امیر شاہ صاحب عامل ایک باکمال ہیں۔ان کا ایک باغیچہ شہر کے اندر تھا۔سب طالب علم ان کے مکان پر چلے گئے۔وہ ایک لکڑی کے تخت پر تکیہ لگائے لیٹے ہوئے تھے اور پاس ہی زمین پر ایک چھوٹی سی چٹائی بچھی ہوئی تھی۔جو ہمارے بڑے بڑے طالب علم اور زیادہ مستحق تھے۔وہ فور اُسب سے پہلے چٹائی پر بیٹھ گئے۔باقی بہت سے طالب علم زمین پر ہی بیٹھ گئے۔چونکہ مجھ کو زمین پر بیٹھنے کی قطعا عادت نہ تھی اور اب بھی مجھے بڑی نفرت ہوتی ہے۔میں سامنے کی ایک کچی دیوار کے پاس کھڑا رہا۔جب سب بیٹھ گئے تو امیر شاہ صاحب نے بڑی حقارت سے کہا۔”اد مملو اکس طرح آئے"۔میں نے عرض کیا۔ایک مقدمہ ہے جس میں یہ سب لوگ مدعی اور میں مدعا علیہ ہوں یا میں مدعی ہوں اور یہ سب مدعا علیہ ہیں۔آپ سے فیصلہ چاہتے ہیں۔تب انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم کھڑے کیوں ہو؟ میں نے عرض کیا کہ چٹائی بہت چھوٹی ہے جو ہمارے اعزاز کے قابل طالب علم تھے۔وہ بیٹھ گئے اب کوئی جگہ نہیں اس لئے میں کھڑا ہوں۔انہوں نے فرمایا تم ہمارے پاس آجاؤ۔میں فور اتحنت پر ان کے پاس جا بیٹھا۔طالب علموں کا تو اس