مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 37
۳۷ یقین ہو گیا کہ وہ میری اسی دعا کا نتیجہ ہے جس پر میں مداومت کرتا تھا اور میری فراست نے مجھ کو بتا دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے منتخب بندوں میں سے ہے اور میں لوگوں کی مدح کرنا اور ان کے شمائل کو پھیلانا اس خوف سے برا جانتا ہوں کہ مبادا ان کے نفسوں کو ضرر دے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ وہ تو ایسے لوگوں میں سے ہے جن کے نفسانی جذبات شکستہ ہو گئے ہیں اور جن کی طبعی شہوات فنا ہو گئی ہیں اور ان پر کوئی خوف نہیں کیا جا سکتا اور اس کے کمال کے نشانوں میں سے یہ ہے کہ جب اس نے اسلام کو مجروح دیکھا اور اس کو ایک مسافر سرگردان کی طرح یا اس درخت کی طرح پایا جو اپنی جگہ سے ہلایا جائے۔تو اس نے غم کو اپنا شعار بنا لیا اور مارے غم کے اس کے عیش مکدر ہو گیا اور وہ مضطر کی طرح دین کی مدد کو کھڑا ہو گیا اور ایسی کتابیں تصنیف کیں جو دقائق اور معارف سے بھری ہوئی ہیں اور جس کی نظیر پہلے لوگوں کی کتابوں میں نہیں پائی جاتی۔ان کی عبارتیں باوجود مختصر ہونے کے فصاحت سے بھری ہوئی ہیں۔اور ان کے الفاظ نهایت دل ربا خوبصورت اور عمدہ ہیں جو کہ دیکھنے والوں کو شراب طہور پلاتی ہیں اور اس کی کتابوں کی مثال اس ریشم کی ہے جو مشک کے ساتھ آلودہ کیا جائے۔پھر اس میں موتی اور یا قوت اور بہت سی کستوری ملائی جائے پھر اس میں عنبر ملا کر معجون کی طرح بنا دیا جائے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی کتابیں جامع ہیں۔ہم ان میں فوائد کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کر سکتے۔وہ تمام سے بڑھ گئی ہیں اس لئے کہ اس نے تمام کمی و زیادتی کا احاطہ کر لیا ہے اور بسبب اس کے کہ دلائل و براہین کے رسوں کے ساتھ دلوں کو کشش کرتی ہیں۔اپنے غیر پر فوقیت لے گئی ہیں۔مبار کی ہے اس شخص کو جو ان کو حاصل کرے اور پہچانے اور غور سے پڑھے