مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 303 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 303

۳۰۳ لکھتے اور لکھاتے رہتے تھے۔آپ کی عادت تھی کہ صبح سے شام تک بلکہ اکثر عشاء تک سوائے نمازوں کے اوقات کے ایک ہی جگہ اپنی نشست گاہ میں بیٹھے رہتے تھے ، جس میں صرف چٹائی بچھی ہوتی تھی اور آپ کے واسطے کوئی الگ مسند نہ ہوتی تھی۔ہر طرح کے حاجت مند آتے تھے اور آپ سے مستفیض ہوتے رہتے تھے۔ایک کھلا دربار ہو تا تھا۔جس پر کبھی کوئی دربان مقرر نہ ہوا۔اندر زنانہ میں عموماً صبح کے وقت آپ عورتوں میں بھی درس قرآن شریف دیا کرتے تھے۔جب تک آپ کے شاگر در شید اور رفیق و انیس حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب زندہ رہے وہ مسجد مبارک میں پنج وقت نماز اور جمعہ کی امامت کراتے تھے اور مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ آپ پڑھاتے تھے۔حضرت مولانا عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد آپ پانچ نمازیں اور جمعہ ان مساجد میں پڑھاتے رہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لے جاسکتے تھے اور عموماً سب نمازیں مسجد مبارک میں ہوا کرتی تھیں۔آپ کی عادت باہر سیر کے واسطے جانے کی نہ تھی۔لیکن گا ہے حضرت مسیح موعود آپ کو اپنے ساتھ سیر کے واسطے باہر لے جایا کرتے تھے۔جب قادیان میں کالج قائم ہوا تو آپ اس میں عربی پڑھاتے رہے۔صدر انجمن احمدیہ کے آپ پریذیڈنٹ تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ مولوی صاحب کی ایک رائے انجمن میں سورائے کے برابر سمجھنی چاہئے۔تصنیف چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر تصنیف کے کام میں مصروف رہتے تھے۔لہذا حضور کا ادب کرتے ہوئے آپ تصنیف کی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے حکم سے آپ نے صرف ایک کتاب تصنیف کی۔جو ایک آریہ دھرمپال نام کی کتاب " ترک اسلام" کے جواب میں تھی۔یہ کتاب آپ نے تصنیف کی اور اس کا مسودہ عاجز راقم نے ایک ایک باب کر کے حضرت مسیح موعود کو شام کی مجلس میں