مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 302 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 302

بھی آگئے۔یہ غالباً ۱۸۹۳ء کا واقعہ ہے۔یہاں اس وقت حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔انہوں نے آپ سے ذکر کیا کہ حضرت صاحب مسیح موعود) کا یہ منشا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اب ملازمت سے فارغ ہو گئے ہیں ، اب آپ ہیں رہیں۔حضرت مسیح موعود کے اس منشا کی خبر سنتے ہی آپ نے فرمایا۔بہت اچھا۔اب یہاں سے نہیں جاتے اور نہیں رہ پڑے۔نہ کوئی سامان لینے گئے نہ کوئی سامان منگوایا۔بس جیسے آئے تھے ویسے ہی بیٹھ گئے۔یہ تھی آپ کی فرمانبرداری کی روح۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی ہی فرمانبرداری کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔آمین۔اس طرح آپ ہجرت کر کے قادیان میں بیٹھ گئے اور پھر کبھی قادیان سے بھیرہ جانے کا خیال بھی نہ کیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمانے سے ایک بیوی کو بھیرہ سے یہاں بلوالیا اور کچھ عرصہ کے بعد دوسری بیوئی کو بھی بلا لیا۔پھر یہاں زمین خرید کر کچی دیواروں کے مکان بنوا لئے۔اور ہجرت میں ایسے پختہ ہو کر بیٹھے کہ ”قطب از جانہ جنبد " کی مثال گویا آپ ہی پر بنائی گئی تھی۔آپ حقیقی معنوں میں ایک ولی اللہ اور قطب تھے۔قادیان میں آپ کے مشاغل قادیان میں آپ کی اقامت کا زمانہ دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔حصہ اول ابتدائے ہجرت سے لیکر تا وصال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قریباً پندرہ سال اور حصہ دوم آپ کا زمانہ خلافت چھ سال پہلے زمانہ میں آپ صبح سویرے بیماروں کو دیکھتے تھے۔اس کے بعد طالب علموں کو درس حدیث و طبی کتب دیتے تھے۔مثنوی شریف اور حضرت مسیح موعود کی کتب کا درس بھی گاہے دیتے تھے اور بعد نماز عصر روزانہ درس قرآن شریف دیا کرتے تھے۔مہمانوں کی امانتیں اپنے پاس رکھتے تھے۔غرباء کی امداد کا خیال رکھتے تھے اور تمام احمدی برادران کو اچھے کاموں کے کرنے اور بدیوں سے بچنے کی نصیحت کرتے رہتے تھے۔اور باہر سے آنے والے خطوط کا جو متعلق مسائل دينيه و طبیہ ہوتے تھے۔جوار