مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 292
۲۹۲ ہوئی۔اس روز مجھ کو الہام ہوا " بطن الانبياء صامة " (۹) تمبر ۱۹۰۸ء) میں نے ایسے مسلمان دیکھے ہیں جو صرف انہیں احادیث پر عمل کرتے ہیں جو حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہیں اور کسی حدیث کو مطلق نہیں مانتے۔(۲۱) ستمبر ۱۹۰۸ء) میرے پاس ایک شخص پنجرے میں ایک نہایت چھوٹا سفید سؤر کا بچہ بند کر کے لایا۔اس کو یہ معلوم تھا کہ اس نے کبھی سور نہیں دیکھا اور واقعی میں نے اس وقت تک کبھی سور نہیں دیکھا تھا۔اس نے مجھ سے کہا کہ دیکھو کیسا خوبصورت ہے۔بتاؤ تو سہی یہ کیا جانور ہے؟ میں نے اس کو دیکھ کر کہا کہ میں نے اس جانور کو کبھی نہیں دیکھا مگر بڑا ہی بد شکل جانو ر ہے۔اس نے بار بار کہا کہ نہیں یہ تو بڑا خوبصورت جانور ہے لیکن میں نے ہر بار یہی کہا کہ مجھ کو تو یہ بد شکل ہی معلوم ہوتا ہے۔آخر میں اس نے بتا دیا کہ یہ سور ہے۔میں نے کہا کہ تم بھی بچے ہو اور میں بھی۔اس نے کہا کہ یہ کیسے ؟ میں نے کہا کہ میری بیسیوں پشتیں گزر گئیں ہوں گی جنہوں نے اس کو شاید دیکھا بھی نہ ہو اور تمہاری بیسیوں پشتیں اس کو کھاتے ہوئے گزر گئیں۔اس لئے تمہارا گوشت پوست اسی کا بن گیا اور اسی لئے تمہاری نگاہ میں یہ مرغوب ہے۔اس نے سن کر کچھ برا بھی نہ مانا اور کہا کہ ہاں ہو تو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو۔(۲۱ جون ۱۹۱۰ء) اللهم حببنا الى اهلها وحبب صالحى اهلها الينا۔میں نے اپنی عمر میں جن جن شہروں کو دیکھا ہے۔اور جن جن شہروں میں رہا ہوں۔اس دعا کے نتائج میں نے ہمیشہ دیکھے ہیں۔مجھ کو جن لوگوں سے محبت ہوئی ہے وہ آج تک اچھے ہی سمجھے جاتے ہیں اور مجھ کو سب ہی اچھا جانتے تھے۔میں بڑے بڑے شریر النفس لوگوں کی صحبت میں بھی گیا ہوں اور خدا تعالیٰ نے مجھ کو محفوظ رکھا ہے۔