مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 293 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 293

۲۹۳ (۸) مئی ۱۹۱۲ ء ) میں نے بڑے بڑے مال کمانے والوں کو دیکھا ہے۔موت اس طرح آجاتی ہے کہ پیشتر سے مطلق خبر نہیں ہوتی۔ایک بڑے مال کمانے والے کو دیکھا کہ رات کو جب کچھری سے آیا تو نوکر سے کہا کہ چاء لاؤ۔وہ جب لیکر آیا تو دیکھا۔مرا ہوا پڑا تھا۔وہ ایک پائی بھی خیرات نہیں کر سکا۔ہندو تھا۔(۱۰ر متی ۱۹۱۲ء) ایک شخص غلام حید رتھے میں نے ان کو دیکھا کہ تمام دیواروں میں لکڑی اور ٹین لگوا رہے ہیں۔میں نے کہا کہ یہ کیا بات ہے؟ کہا کہ ہم تحصیل دار یعنی مجسٹریٹ شہر کے پاس شکایت لے کر گئے کہ ہم کو چوہوں نے بہت تنگ کیا ہے۔آپ اس تکلیف سے ہم کو بچائیں۔انہوں نے کہا کہ چوہوں کا تو ہم کچھ نہیں کر سکتے۔لہذا اب خود حفاظتی کے لئے خود ہی سامان کر رہے ہیں۔(۱۶) اکتوبر ۱۹۱۲ء) میں ایک مرتبہ ریل میں سفر کر رہا تھا۔میرے پاس اسی کمرہ میں (جو سیکنڈ کلاس کا کمرہ تھا) ایک ایسا شخص بھی تھا جو مجھ کو جانتا تھا اور شراب بہت پیتا تھا۔بار بار اٹھتا۔میرے پاس آتا اور کہتا۔مولوی صاحب امجھ کو قرآن شریف پڑھاؤ مگر صحیح۔لفظ صحیح کو کھینچ کر کہتا اور نشہ کی وجہ سے گر پڑتا۔مجھے کو اس کی شراب کی بدبو سے ہی بہت تکلیف تھی۔یہ اس کا بار بار مجھ سے مخاطب ہونا اور بھی موجب تکلیف ہوا۔میں نے اپنے دوسرے ہمراہی سے کہا کہ یہ تو موجب تکلیف ہوتا ہے۔کیا کیا جائے ؟ اس نے کہا بہت اچھا اگلا اسٹیشن آنے دو۔میں اس کا علاج کر دوں گا۔چنانچہ گوجر انوالہ کا اسٹیشن آیا۔وہ اترا اور خدا جانے کسی شخص سے کیا کہہ آیا۔میں نے دیکھا کہ پلیٹ فارم پر ایک شخص دوسری کھڑکی کے سامنے آکر کھڑا ہوا۔