مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 281
۲۸۱ (۳۰ / دسمبر ۱۹۰۵ء) سفر میں ایک بادشاہ کی مجلس میں بڑے طویل و عریض مقام پر سفید چاندنی بچھی تھی اور نرم نرم ہوا کے باعث اس میں خوشنما تموج ہو تا تھا جو بھلا معلوم ہو تا تھا۔اسی حال میں وہ بادشاہ اپنے وزیر سے جو د ہر یہ مزاج تھا، ہستی باری تعالیٰ پر بحث کر رہا تھا۔بادشاہ نے مجھ سے فرمایا کہ ہستی باری کی کوئی دلیل بیان کرو۔میں نے عرض کیا کہ یہ دلر با تموج چاندنی کا۔بادشاہ نے جب اس طرف دیکھا تو اس کو نہایت اچھا معلوم ہوا اور مجھ سے کہا کہ کیونکر ؟ میں نے عرض کیا کہ اس تموج کا باعث چاندنی کا ارادہ ہے یا اس میں طبعی خواہش ہے ؟ وزیر نے کہا کہ یہ تموج ہوا کی خاص رفتار کے باعث ہے اور یہ متاثر چاندنی بے ارادہ ہے۔میں نے عرض کیا کہ اس طرح اس وقت ہوا کی طبعی خاصیت ہے ؟ اس نے کہا کہ ایک خاص انقباض کے باعث ہوا میں یہ خاص رفتار ہے۔میں نے کہا کہ یہ انقباض بالا رادہ ہے ؟ اور مجھے یقین تھا کہ یہ فلسفی ہے دو تین قدم سے زیادہ نہیں چلے گا۔اس نے کہا کہ اس انقباض خاص کا سبب غیر معلوم ہوتا ہے۔میں نے کہا وہ غیر معلوم سبب ارادہ رکھتا ہے کہ نہیں ؟ اس پر بولا کہ ایک گریٹ پاور اس انتظام کا موجب ہے۔اس پر میں نے اور بادشاہ نے معا کہا کہ یہ اصطلاحی لفظ ہے۔اس کو اللہ۔پر میشر - گاڈ جو چاہو کہو۔تب اس نے کہا کہ میں منکر نہیں بلکہ طالب دلیل ہوں۔(۱۴ اپریل ۱۹۰۷ء) ایک عظیم الشان شہزادہ کے حضور ایسا اتفاق ہوا کہ ہم لوگ کرسیوں پر بیٹھے تھے اور نیچے دری تھی۔وہ شاہزادہ منکر ہستی باری تعالیٰ تھا۔اثنائے گفتگو میں اس نے ایک ڈاکٹر کو اپنا استاد بتایا۔میں نے کہا کہ اسے طلب فرما ئیں۔وہ بلایا گیا۔میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ یہ سیاہ تاگا جو دری میں ہے اس میں فطری خواہش ہے کہ وہ سیدھا اس مقام تک رہے اور ادھر ادھر نہ جائے ؟ ڈاکٹر بولا مولوی صاحب! ایک دری باف کے ارادہ نے اس کو سیدھایا ٹیڑھا کیا۔مگر