مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 279 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 279

۲۷۹ ہو ؟ میں نے کہا تم یہ بتاؤ تم کسی بات کے قائل بھی ہو جو کسی مذہب نے مانی ہے ؟ کہا کہ ہاں دعا کا قائل ہوں۔میں نے کہا کہ زمین گول ہے۔نماز کا وقت زمین پر ہر جگہ ہوتا ہے۔مسلمان دنیا کے ہر حصہ میں پائے جاتے ہیں یعنی ہر وقت سینکڑوں ہزاروں لوگ نمازیں پڑھتے ہیں۔پھر ہر نماز میں درود پڑھی جاتی ہے اور یہ سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہو تا۔تو بتاؤ کہ کوئی رسول بھی ایسا ہے جس کے لئے اس قدر دعائیں مانگی جاتی ہوں اور مانگی گئی ہوں۔حسب خواہش محمد یوسف صاحب ان کا خط بجنسہ درج کیا گیا۔انہوں نے چاہا کہ اس طرح میرا نام بھی اس کتاب میں درج ہو جس کو وہ اپنے لئے موجب سعادت سمجھتے ہیں۔(مرتب) سیدی مخدومی جناب خان صاحب! اسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاته ۱۷ اکتوبر ۱۹۱۲ء کو قریباً تین بجے دن کے درس حدیث میں حضرت امیرالمومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مباحثہ کا جو ان کو ایک عیسائی سے پیش آیا تھا ذکر فرمایا اور ان کے ذکر فرمانے کے بعد فرمایا کہ محمد اکبر (شاہ) خان صاحب کچھ لکھا کرتے ہیں۔وہ ہر وقت تو یہاں ہوتے نہیں اور ہمیں باتیں ایک ہی مرتبہ یاد نہیں آتیں۔کبھی کبھی کسی سبق کے وقت یاد آجاتی ہیں۔یہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے اس لئے خان صاحب کو لکھوادیں۔لہذا درج ذیل ہے۔راقم محمد یوسف سب ایڈیٹر بد ر قادیان) ایک دفعہ میں ریل میں آتا تھا۔ایک عیسائی مجھے ملا۔اس نے کہا اب تو اسلام کے مقابل میں ایسی کتاب لکھی گئی ہے کہ اسلام اس کے سامنے ہر گز نہ ٹھہرے گا۔میں نے کہا۔وہ ایسی کون سی کتاب ہے؟ کہنے لگا کہ اس کتاب کا نام تنقید القرآن ہے اور پادری عماد الدین نے لکھی ہے۔میں نے کہا اس کی کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ تنقید سناؤ۔اس نے کہا کہ قرآن نے جو یہ