مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 274
۲۵۴ آتشک تم کو ہوتی ہے یا مسیح کو ؟ مبہوت رہ گیا۔(۱۱۳ اپریل ۱۹۰۹ء قبل از درس در مسجد اقصی) بائیبل کو ہم نے بہت دفعہ پڑھا۔ہمارے مطالعہ کی بائیبل جس پر ہم نے بہت سے قیمتی حواشی لکھے تھے۔کسی نے چرالی۔(۱۵ر مئی ۱۹۰۹ ء بعد نماز ظهر) ایک انگریز کا نام گارڈن تھا۔اس نے مجھ سے کہا کہ یورپ نے بڑی ترقی کی ہے ؟ میں نے کہا کیا ترقی کی ہے؟ مسلمانوں کی صرف ایک اذان ہی کا مقابلہ کر لو۔تم لوگوں سے سوائے گھنٹے بجانے کے اور کیا ہو سکتا ہے؟ لیکن مسلمان کو ٹھوں پر بلند میناروں پر چڑھ کر پانچوں وقت اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہیں۔کیا اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے جلال اور کبریائی کے لئے یورپ کوئی چیز ایجاد کر سکتا ہے؟ نہ یہودی مقابلہ کر سکتے ہیں۔نہ مسیحی۔نہ مجوسی۔نہ ہندو - ایک اور انگریز سے اسی قسم کی گفتگو ہوئی تو اس نے کہا کہ ہم نے ہی غلام آزاد کرنے کا بیڑا اٹھایا اور ہم لوگوں ہی کے سر یہ سہرا بندھا۔میں نے فور أجواب دیا کہ مسلمانوں کے ہاں تو اِنَّمَا الصدقات والی آیات میں خدا تعالیٰ نے غلام آزاد کرنے کے لئے ایک حصہ فی الرقاب مقرر فرما دیا ہے تمہاری انجیل میں تو کہیں غلاموں کے آزاد کرنے کے لئے کوئی بھی حکم نہیں۔بھلا مسلمانوں سے بڑھ کر غلاموں کے آزاد کرنے کا دعوئی تم کیسے کر سکتے ہو ؟ وہ بھی سن کر کچھ حیران ہی سارہ گیا۔(۱۹) مئی ۱۹۰۹ء) میں ایک مرتبہ سورہ مائدہ کے پہلے رکوع کی آیت الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ وَطَعَامُ الَّذِینَ الخ پڑھا رہا تھا کہ ایک مسیحی جو بڑا آدمی تھا آگیا۔اس نے اعتراض