مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 275 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 275

۲۷۵ کیا کہ مولوی صاحب یہ تو بڑا ظلم ہے کہ اسلام نے ہماری لڑکیاں تو تم کو دلا دیں اور تمہاری لڑکیاں عیسائیوں کو نہ دینے دیں۔میں نے کہا کہ تم کو معلوم نہیں اس میں ایک بڑی پیشگوئی ہے ؟ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ عیسائی مسلمانوں کے بادشاہ ہوں گے۔پس مسلمانوں کو کہا کہ تم تو اپنے حاکموں پر بدظنی نہ کرو لیکن وہ بغاوت وغیرہ کی بد ظنی تم پر کریں گے۔اس لئے تم ان کی لڑکیوں سے شادی کر لو تا کہ ان کو معلوم ہو جائے کہ ہماری تو لڑکیاں مسلمانوں کے گھروں میں ہیں۔یہ اگر بغاوت کے منصوبے کریں گے تو ہم کو فوراً معلوم ہو جائیں گے۔یہ سن کر وہ خاموش و حیران رہ گیا۔(۳ ارجون ۱۹۰۹ء) ایک پادری نے مجھ سے کہا کہ تمہارے یہاں قرآن میں مکہ کو زمین کی ناف کہا ہے۔میں نے کہا یہ قرآن شریف موجود ہے اس میں کہیں ناف کا ذکر نہیں۔ہاں بائیبل میں یا جوج ماجوج کے ذکر میں مذکور ہے کہ وہ زمین کی ناف پر چڑھائی کریں گے۔حدیثوں میں البتہ ناف کا ذکر ہے۔بچہ ناف کے ذریعہ سے غذا حاصل کرتا ہے اسی طرح مکہ میں جو کتاب نازل ہونا شروع ہوئی۔اس نے ہم کو روحانی غذا پہنچائی۔(۲۰) جون ۱۹۰۹ء) ایک مسیحی نے مجھ سے کہا کہ بائیبل کے معنی ہم ہی خوب کر سکتے ہیں، تم نہیں کر سکتے۔میں نے کہا تو ریت کے معنی پھر تو یہودی ہی خوب کر سکتے ہیں ، تم نہیں کرسکتے۔(۳) اگست ۱۹۰۸ ء در درس بخاری بعد نماز ظهر در مسجد مبارک) ٹوانہ کے سردار عمر حیات خان کے والد ماجد ایک مرتبہ کسی انگریز کی کوٹھی میں گئے تو وہاں اس انگریز نے سوال کیا کہ سردار صاحب ایہ بتاؤ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ