مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 269
۲۶۹ نہ ہو ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں کوئی بھی سورت قرآن شریف میں اضافہ نہیں کی گئی۔ہاں یہ ممکن ہے کہ قرآن شریف میں سے بعض سورتیں یا بعض آیتیں کم کی گئی ہوں اور ترتیب بگاڑی گئی ہو۔جب انہوں نے یہ فرمایا تو میں نے ان سے کہا کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ والْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ افَوَاجًا سے معلوم ہوتا ہے که افواج در افواج لوگ دین الہی میں داخل ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے دیکھے۔آپ مجھے صرف ایک فوج اور ایک فوج بھی نہ سہی ایک فوج کے صرف ایک دستہ اور ایک دستہ بھی نہ سی صرف دس پندرہ ہی نام سنا دیں (علی مرتضی کے سوا شیعوں کے اعتقاد میں صرف دو ڈھائی شخص مومن تھے ) یہ سن کر شیخ احمد صاحب مجہد ایسے سٹ پٹائے اور گھبرائے کہ انہوں نے کہا کہ اول تو لفظ اذا کی تحقیق نقی طور پر ہونی چاہئے۔پھر یہ کہ آیا زمانہ حادث ہے یا قدیم۔پاک ہے یا نجس۔متصل ہے یا منفصل۔میں نے عرض کیا کہ اسے لکھ دیجئے کہ ہم اذا کے معنی نہیں جانتے۔انہوں نے لکھ دیا کہ ہم اذا کے معنی نہیں جانتے۔جب بعد میں دو سرے شیعہ لوگوں کو معلوم ہوا تو بڑا شور مچا کہ یہ کیا کیا کہ تحریر دے دی۔پھر تم مجتہد ہی کا ہے کے ہوئے۔جب اذا کے معنی نہیں جانتے۔چنانچہ میرے پاس ان کے آدمی آئے اور خوشامد کرنے لگے کہ وہ پرچہ دے دو۔میں نے وہ پر چہ ان کو دے دیا۔(۱۲ر مئی ۱۹۰۹ء) ایک شیعہ میرے پاس ایک کتاب پانچ جلدوں کی لایا۔میں نے اس سے کہا کہ اس کی کیا قیمت ہے ؟ اس نے کہا اس کی یہ قیمت ہے کہ آپ اس کو ایک مرتبہ پڑھ جائیے۔میں نے اس کی خاطر سے اس کے ۷۵ صفحے پڑھے اور اس کتاب پر یہ آیت لکھ دی۔فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأَخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَا كَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيَاتِهِمْ وَلَا دْخِلَنَّهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ