مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 270 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 270

ثَوَابَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ۔اس کتاب میں حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گنہگار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس تمام کوشش کا یہ آیت کافی جواب تھا۔(۲۲ مئی ۱۹۰۹ ء بعد نماز ظهر) میں مالیر کوٹلہ میں تھا کہ شیعوں کی طرف سے ایک اشتہار بلالی پریس ساڈھورہ کا چھپا ہوا نکلا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ تیری قوم سے مجھ کو نقصان پہنچا۔میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قوم تو پھر ابو طالب اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہوئے؟ ایک شیعہ نے کہا۔ہاں۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے كَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ (رکوع ۸ سوره انعام جب اس کا چرچا ہوا تو اگلے ہی دن تمام اشتہار شہر میں سے اتار لئے گئے۔(۲۷) مئی ۱۹۰۹ء)۔میں نے اکثر شیعوں سے دریافت کیا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ تم یہ بتاؤ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کا مقابلہ کیا کیا ہے ؟ میں نے شیعوں سے یہ بھی کہا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق نے کوشش کی اور کامیاب ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بقول تمہارے کوشش کی لیکن هَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا (۹/ جون ۱۹۰۹ء) میں نے ایک شیعہ سے دریافت کیا کہ تم جو متعہ کرتے ہو اس سے نطفہ رہ جائے اور