مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 262
۲۶۲ ہوں کہ یہ مولوی ہے تو میری رنگت زرد ہو جاتی ہے اور میں نہایت خوف کھاتا ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لودھیانہ میں جب شروع ہی شروع میں انگریز آئے۔وہاں ایک مولوی صاحب و عظ بیان فرما رہے تھے۔میرا باپ بھی وہاں چلا گیا۔میں بھی اس کے ساتھ ہو لیا۔میں اپنے باپ کا ایک ہی بیٹا تھا۔میری عمر بہت تھوڑی تھی لیکن بہت سمجھ دار تھا۔مولوی صاحب نے وعظ میں بیان کیا کہ دریائے نیل چاند کے ایک پہاڑ سے نکلا ہے۔ایک شخص نے کہا کہ چاند تو ہمارے سر پر ہو کر گزرتا ہے۔ہم پر تو کوئی چھینٹ نہیں پڑتی اور نہ وہ دریائے نیل اس میں سے نکلتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔یہ سنتے ہی مولوی صاحب نے کہا کہ یہ کافر ہے اس کو لینا۔خبردار ! جانے نہ پائے۔بس پھر کیا تھا اس وعظ میں کشمیری بہت تھے۔چاروں طرف سے اس پر ٹوٹ پڑے۔جوتوں اور تھپڑوں سے مارتے مارتے بے ہوش اور ادھ موا کر دیا۔میرے دل میں اسلام سے بڑی نفرت پیدا ہوئی۔اس وقت وہاں سے اٹھا اور سیدھا ایک پادری کے پاس گیا کہ مجھ کو عیسائی بنالو اور کہیں دور جلد بھیج دو۔پھر اب تک مجھ کو اپنے باپ کا حال معلوم نہیں۔میں نے صرف انگریزی پڑھی۔عیسائی مذہب کی تمام کتابیں پڑھ کر اعلیٰ درجہ کا پادری بنا۔بہت دنوں تک مسیحی مذہب کا وعظ کرتا رہا اور مشن کا افسر ہو گیا۔ایک روز ایک انگریز جو جالندھر کا کمشنر بھی رہ چکا ہے۔ضلع جہلم میں مستم بندوبست بھی رہا ہے اور آخر کو حج ہو گیا تھا میرے پاس آیا اور مجھ کو ایک رسالہ دکھایا کہ اس میں لکھا ہے کہ اب دریائے نیل کا منبع معلوم ہو گیا ہے۔ہماری قوم بھی کیسی جفاکش ہے۔دریائے نیل کا منبع معلوم کرنے میں بہت سے لوگ اپنی عمریں ضائع کر چکے۔بعض خاندانوں کی کئی کئی پشتیں اسی تحقیق میں گذر گئیں آخر اب معلوم ہوا کہ دریائے نیل جبل القمر سے نکلتا ہے۔وہ ایک پہاڑ ہے جس پر ہمیشہ برف جمی رہتی ہے۔اس کا نام جبل القمر یعنی چاند کا پہاڑ ہے۔میں اس انگریز سے وہ رسالہ لے کر اور اس کو ٹال کر اندر کمرے میں چلا گیا اور اپنے باپ کو یاد کر کے بہت رویا اور میں نے کہا کہ اے خدا تعالیٰ ! ایک مولوی کی وجہ سے تو میں عیسائی ہوا تھا اور اب ایک عیسائی کے ذریعہ سے میں مسلمان ہوتا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ اسلام سچا