مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 259
۲۵۹ سید احمد خاں نے اس کو بہت ہی پسند کیا اور اس کتاب کو بڑی تعداد میں شائع کیا کہ ملک والے دیکھیں کہ اسباب تنزل کے یہ ہیں۔سید احمد خاں نے میرے پاس بھی وہ کتاب بھیجی۔میں نے اس پر ایک آیت لکھ دی کہ سوائے اس کے اور کوئی سبب تنزل نہیں۔وہ یہ ہے وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا۔(الفرقان: ۳۱) (۱۹ جون ۱۹۰۹ء) میں نے ایک مرتبہ علی گڑھ کے عمائد کے پاس خطوط بھیجے کہ بتاؤ تم لوگوں میں مسلمان ہونے پر بھی اعمال میں اس قدر ستی کیوں ہے؟ خد ا مغفرت کرے اس کی۔مولوی شبلی نے مجھ کو لکھا کہ ہمار اخد اتعالیٰ اور جزا سزا پر پورا یقین نہیں۔(۲۶ جون ۱۹۰۹ء) سورة المرسلات پڑھاتے ہوئے جب یہ آیت آئی فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ تو ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ تمہاری ساری حدیثوں کا تو رد ہو گیا۔میں نے کہا تیری اس بات کا بھی رد ہو گیا۔(۲۷ / جون ۱۹۰۹ء) ایک دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی اور عبد اللہ ٹونکی دونوں مجھ سے بحث کرنے کے لئے آئے۔محمد حسین نے کہا کہ شرائط میں لکھواتا ہوں۔میں نے کہا اچھا۔پہلی ہی شرط میں لکھایا کہ حقیقت و مجاز میں جب ہمارے تمہارے درمیان تفرقہ ہو گا تو میں نے کہا یہ پہلی شرط ہی غلط ہے۔آپ تو اہل حدیث ہیں اور حقیقت و مجاز کا تفرقہ تو بدعت ہے۔سب سے پہلے تیسری صدی کے آخر اور چوتھی صدی کے ابتدا میں حقیقت و مجاز کا تفرقہ ہوا ہے۔