مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 252
۲۵۲ ان میں سے ہوں۔اکبر شاہ خاں) (۱۲) نومبر ۱۹۱۰ ء بعد مغرب) میں جب ریاست پونچھ میں تھا تو وہاں میرا کو بڑھ گیا اور زبان پر زیادہ گرنے لگا۔ورم شدید ہو گیا۔میں نے اس کو کٹوا دیا۔اس لئے میری آواز بھاری ہو گئی پھر اب تک کبھی کوا نہیں بڑھا۔(۷) فروری ۱۹۱۲ء) ایک مرتبہ کشمیر میں ایک شخص میرے مکان پر آکر مقیم ہوا۔بڑی بے تکلف اور محبت کی باتیں کیا کرتا تھا۔بظا ہر غریب آدمی معلوم ہو تا تھا۔میں بھی اس سے محبت کرتا تھا۔ایک روز موقع پاکر اس نے تنہائی میں مجھ سے کہا کہ حضرت! دس ہزار روپے دلائے دیتے ہیں، چاہے نقد چاہے زمین۔میں نے ہر چند غور کیا مگر کچھ سمجھ میں نہ آیا۔آخر میں نے ہنس کر کہا کہ کچھ کھول کر کہو۔کہنے لگا کہ صرف اتنا کام ہے کہ رئیس کے متعلق یہ یہ باتیں ہیں ذرا ان کا پتہ لگاؤ۔باقی آپ کو کام کچھ نہ کرنا پڑے گا وہ ہم خود کرلیں گے۔صرف پتہ صحیح بتادو اور فلاں مقام پر آپ سے ملنے کے لئے۔۔آجائیں گے۔میں نے اس سے کہا کہ مجھ کو ایسی باتوں سے دلچسپی نہیں۔وہ اسی دن میرے یہاں سے چلا گیا۔دوسرے کسی رئیس کے پاس گیا۔وہاں جاکر کامیاب ہو گیا یا نہیں۔اس طرح ایک اور شخص میرے پاس بیمار بن کر آیا کہ میرے پاؤں میں درد ہے۔میں ہر چند دوا دیتا لیکن درد نہ گھٹتانہ بڑھتا۔وہ ایک گدی نشین تھا۔مجھ کو شبہ ہوا کہ یہ بھی اسی قسم کا آدمی ہے۔میں نے اس کو تنہائی میں بلا کر پوچھا کہ تم اپنا اصل مدعا بتاؤ ؟ کہنے لگا کہ تم بڑے چالاک ہو کہ میری اصل غرض سمجھ گئے۔پھر صاف طور پر کہا کہ ہاں بات یہی ہے۔تب ہی تو تمہارے پاس آئے ہیں۔میں نے کہا کہ رئیس مجھ پر بھروسہ کرتا ہے۔میں ہر گز اس کی مخالفت میں کوئی کام نہ کروں گا۔