مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 249 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 249

۲۴۹ وہ بنگالی ڈاکٹر سن کر حیران ہی رہ گیا۔کیونکہ اس کے دل کی بات ٹھیک ٹھیک بنائی گئی تھی۔پھر دہلی کے ایک حکیم صاحب کو بھیجا۔ان کے دل کی بات بھی اسی طرح اس نے بتادبی او ر وہ بھی غرق حیرت ہو کر چلے آئے۔کچھ دل میں سوچ کر میں بھی گیا۔میں لاحول پڑھتا رہا۔اس نے بڑی دیر تک غور کر کے کہا کہ اس شخص کا حال مجھ کو کچھ نہیں معلوم ہو تا۔یہاں ایک لڑکا رہتا تھا۔اس کا نام عبد العلی تھا۔اس کے باپ کو جنات کے حاضر کرنے کا بڑا دعویٰ تھا۔وہ میرے ساتھ اکثر رہا۔لیکن کبھی بھی میرے سامنے تو وہ جنات کو حاضر نہ کرسکا۔" جون ۱۹۰۹ء قبل از درس بعد نماز عصر مسجد مبارک میں جبکہ سید سرور شاہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب رامپور جانے کے لئے 9 جون کی صبح کو قصد روانگی رکھتے تھے۔ان کو چند نصائح فرماتے ہوئے۔" مہاراجہ کشمیر سے بارہا میرا مباحثہ ہوا۔ہمیشہ میں نے انہیں کو منصف مقرر کیا۔اس کے بعد ایک شیعہ حکیم صاحب سے عبقات الانوار سات سو صفحہ کی کتاب لے کر پڑھنے اور ضیافت کے بہانہ مباحثہ کے لئے بلائے جانے کا مفصل حال بیان فرمایا جو آپ نے اپنی سوانح میں بھی لکھوایا ہے۔(۰ار جون ۱۹۰۹ء) میں نے ایک مرتبہ مہاراج کشمیر سے دریافت کیا کہ آپ کے یہاں بادشاہوں اور دو سرے دیوتاؤں میں فرق کیا ہے کہا کہ دوسرے دیو تا تو ناقص ہوتے ہیں اور راجہ کامل دیوتا ہوتا ہے۔میں نے کہا ثبوت؟ کہا دیکھو ابھی ثبوت دیتے ہیں۔یہ کہہ کر پنڈت کو بلایا اور اس سے کہا کہ تم گدھا خیرات میں لے سکتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔پھر کہا کنجروں کا مال لے سکتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔کہا دیکھو یہ ناقص ہے اور ہم سب کچھ لے سکتے ہیں۔