مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 241
اسلام سلام رہنے والے ہو۔میں سن کر خاموش رہا۔میں نے شاہ صاحب سے عرض کیا کہ شیعہ سنی کا جھگڑا کس طرح طے ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم یہ بتاؤ کہ ہمارے اور شیعوں کے درمیان کوئی چیز بھی مابہ الاشتراک ہے میں نے کہا کہ ہاں قرآن شریف کو شیعہ بھی مانتے ہیں اور سنی بھی۔انہوں نے کہا کہ بس تو اب آسان طریقہ یہ ہے کہ قرآن شریف جو مذہب تعلیم فرمائے اسی کو قبول کر لو۔میں نے کہا میں تو عربی نہیں جانتا۔کہا کہ ہمارے بھائی رفیع الدین نے قرآن شریف کا ترجمہ لکھا ہے تم اس ترجمہ کو پڑھو اور جو لفظ ترجمہ کا سمجھ میں نہ آئے بس اسی لفظ کے اوپر کا اصل عربی لفظ لے کر کسی سنی یا شیعہ مولوی سے اس لفظ کے معنی دریافت کرلو۔لیکن صرف اسی لفظ کے معنی۔آگے پیچھے کی عبارت دریافت کرنے کی ضرورت نہیں۔اس طرح تمام ترجمہ خوب سمجھ کو پڑھ لو۔چنانچہ میں نے وہ ترجمہ پڑھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں تو سنی ہو گیا۔میں جب واپس ہو کر لکھنو گیا تو بادشاہ نے مجھ سے دریافت کیا۔میں نے قرآن شریف والی بات کا ذکر تو کیا نہیں۔بادشاہ سے عرض کیا کہ کیا بتاؤں وہ چاند پور کہتے رہے اور میں لکھنؤ کہتا رہا۔بادشاہ نے کہا کس طرح اتفاق ہوا مفصل بیان کرو۔جب میں نے مفصل بیان کیا تو بادشاہ نے فورا حکم دیا کہ تمام پرانے کاغذات اور نوشتے بہم پہنچا کر اس بات کو تحقیق کرو کہ لکھنو کی آبادی سے پیشتر اس تمام قطعہ زمین میں جہاں اب لکھنؤ آباد ہے۔کون کون سے گاؤں آباد تھے۔چنانچہ بہت دنوں میں یہ بات تحقیق ہو کر بادشاہ کی خدمت میں تحقیق کا نتیجہ پیش کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جہاں پکا پل ہے وہاں پیشتر چاند پور نام ایک آبادی تھی۔بادشاہ نے بڑا تعجب کیا کہ افسوس ہم کو اپنے شہر کا جغرافیہ معلوم نہیں اور شاہ عبد العزیز دلی میں بیٹھے ہوئے ہمارے شہر کے جغرافیہ سے اس قدر واقف !! (۱۳) اگست ۱۹۰۸ء) رامپور میں میں نے ایک شخص کو دیکھا۔ان کا نام نورالدین تھا۔انہوں نے غیر مقلدوں کے رد میں ایک کتاب لکھی۔اس کتاب میں پہلی ہی دلیل یہ تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ