مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 239
۲۳۹ انہوں نے اس سے یہ نہ کہا کہ تم کو ہیضہ ہے۔کہا کہ میاں تمہارے معدہ میں فتور و بد ہضمی ہے۔اس نے یہ سن کر ایک مگدر (نال) جو سامنے پڑا ہوا تھا۔اٹھانے کے لئے جھک کر کہا کہ بد ہضمی تو ہمارے پاس بھی نہیں پھٹک سکتی۔لو دو چار ہاتھ اس کے ابھی نکالتا ہوں۔یہ کہہ کر ایک ہاتھ سے اس کو اٹھا لیا۔ہاتھ اوپر کو سیدھا کیا اور فور اسی حالت میں دم نکل گیا۔(۱۹ اکتوبر ۱۹۱۲ء) رامپور میں ہمارے استاد حکیم صاحب کے یہاں بڑی بڑی سینیوں میں جلیبیاں آئیں۔انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم یہ بتاؤ کہ ان جلیبیوں کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ یہ پیران پیر صاحب کی گیارھویں کی ہیں۔میں نے کہا آپ عالم ہیں۔مجھ سے کیا دریافت فرماتے ہیں۔انہوں نے کہا ہمارے لئے تو ان کا کھانا جائز ہے۔میں نے کہا مَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ کا آپ کو خیال نہیں ؟ کہا کہ تم کسی طالب علم کو جو گیلانی سید ہو بھیج کر دیکھو اور وہ وہاں جا کر اپنا گیلانی سید ہونا بیان کرے اور کچھ مانگے۔دھکوں اور جوتیوں کے سوا اور کچھ نہ ملے گا۔ہمارے یہاں اس قدر آئی ہیں۔فلاں رئیس کے یہاں اس قدر۔فلاں اہلکار کے یہاں اس قدر گئی ہوں گی۔یہ سب ریا کاری اور نمود کے لئے کرتے ہیں۔(۱ار اگست ۱۹۰۸ء) میں رامپور میں جن حکیم صاحب سے طب پڑھتا تھاوہ بڑے آدمی تھے۔ان کے یہاں بہت سے مہمان لکھنو و غیرہ کے پڑے رہتے تھے۔وہیں مرزا رجب علی بیگ سرور مصنف فسانہ عجائب بھی جو بہت بوڑھے آدمی تھے رہتے تھے۔میں نے ایک دن ان سے کہا کہ مرزا صاحب ! مجھے کو اپنی کتاب فسانہ عجائب پڑھا دو۔میں اس کتاب کو آپ سے پڑھ کر اس کی سند لینا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔میں نے ایک دو صفحہ ہی پڑھا تھا کہ یہ فقرہ آیا کہ ادھر مولوی ظهور الله و مولوی محمد مبین وغیرہ اور اُدھر مولوی تقی و میر محمد مجتد وغیرہ " میں