مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 234 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 234

۳۳۲ سے ایک لڑکی کو بازو سے پکڑ کر مجھے دکھایا کہ میں اس لڑکی پر دنیا میں عاشق تھا اس واسطے اب میں بیمار اور مبتلائے عذاب ہوں۔جب میں اپنے شہر میں آیا تو اس کے ایک دوست سے میں نے پوچھا کہ فلاں شخص جس عورت کے عشق میں فوت ہوا آپ مجھے اس عورت کا پتہ بتا سکتے ہیں ؟ اس نے کہا کہ آپ کو یہ بات کس نے بنائی؟ میں نے کہا کہ بھلا عشق کہیں مخفی رہ سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ جب میرے اس دوست کا انتقال ہوا ہے تو اس کا سر میری ران پر تھا اور میں نے اس سے اس وقت دریافہ کیا تھا۔کہ اس عشق کا حال تم نے کسی کو بتایا ہے ؟ تو اس نے کہا تھا کہ اس کا حال یا تو اس عورت کو معلوم ہے یا تم کو یا مجھ کو یا خد اتعالیٰ کو اور کسی چوتھے انسان کو معلوم نہیں۔مرتے ہوئے جب اس نے یہ کہا تو آپ کو کہاں سے خبر ہوئی؟ غرض کہ اس عورت کا نام اس نے مجھ کو نہ بتایا۔ہمارے شہر میں ایک محلہ ہے وہاں کی عورتیں کسی قدرخد و خال میں اچھی ہوتی ہیں اور ان لوگوں میں پردہ کا رواج بھی نہیں گو مسلمان ہیں۔اس محلہ کی عورتیں ایک روز کسی شادی میں جاتی تھیں۔میں بھی اتفاق سے اس طرف سے گزرا۔ان کو دیکھ کر مجھے کو یقین ہوا کہ اس وقت اس محلہ کی سب عورتیں ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ ”مائیو ا دیوار کے ساتھ مل کر ایک صف تو بناؤ میرے بزرگوں کی وجاہت ایسی تھی کہ انہوں نے میری بات مان لی اور سڑک کے کنارے سب ایک صف میں کھڑی ہو گئیں۔ان میں بعینہ وہی لڑکی جو میں نے رویا میں دیکھی تھی نظر آئی جو ابھی کنواری ہی تھی۔میں نے ان سے کہا کہ اس کو میرے پاس بھیج دو۔چنانچہ بعض دوسری عورتوں نے اس کو دھکیل کر میری طرف بھیج دیا۔جب میرے قریب آئی تو میں نے اس سے یوچھا کہ تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے اپنا نام مجھ کو بتا دیا۔اس کا نام دریافت کر کے میں نے ان سے کہا کہ بس اب چلی جاؤ۔کچھ دنوں کے بعد اس متوفی کا وہی دوست مجھ کو ملا میں نے اس سے کہا کہ تم نے تو ہمیں اس عورت کا نام نہ بتایا۔مگر ہم کو معلوم ہو گیا۔وہ فلاں محلہ کی لڑکی ہے اور اس کا نام یہ ہے۔وہ سن کر ہکا بکا سا رہ گیا اور کہا کہ ہاں یہی نام ہے مگر آپ کو کسی طرح معلوم ہوا۔میں نے اس سے اپنے رویا کا ذکر نہ کیا اور نہ مناسب تھا۔