مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 233
۲۳۳ قائل نہیں۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے۔اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا غرض کہ میرا اعتقاد نہیں کہ کسی رسول کو شکست ہوئی ہو۔چونکہ مجھ کو رسولوں سے محبت ہے اس لئے میں نے اپنی عمر میں کبھی شکست نہیں کھائی۔بہت آدمیوں نے میرے قتل کے منصوبے کئے مگر ہمیشہ ناکام رہے۔(۱۴ مئی ۱۹۰۹ ء قبل از نماز عشاء در مسجد مبارک) پنڈ دادنخاں اور میانی کے درمیان ایک ندی ہے۔میانی میں بھی ہمارا ایک گھر تھا۔پنڈ دادنخان میں میں مدرس تھا۔میانی سے پنڈ دادنخاں آتے ہوئے دریا پر میں نے دیکھا کہ ایک شخص نے دریا میں داخل ہوتے وقت اپنا تہ بند سر پر کھول کر رکھ لیا اور نگا ہو کر چلنے لگا۔ایک دوسرے شخص نے اس کو بڑی ہی لعنت ملامت کی اور نہایت سخت ست کہا کہ اس طرح ننگا ہو کر کیوں دریا میں جاتا ہے۔پہلے شخص کے پیچھے وہ دوسرا شخص بھی دریا میں داخل ہوا۔جوں جوں آگے بڑھتا گیا پانی گرا آتا گیا اور وہ اپنا تہ بند اوپر کو اٹھا تا گیا۔جب اس نے دیکھا کہ پانی تو شاید ناف تک آجائے گا تو اس نے بھی اپنا تہ بند کھول کر سر پر رکھ لیا اور پہلے شخص کی طرح بالکل ننگا ہو گیا۔اس وقت میری سمجھ میں یہ نکتہ آیا کہ جو شخص کسی دوسرے کی تحقیر کرتا ہے۔وہ خود بھی اسی قسم کی ذلت اٹھاتا ہے۔اگر وہ دوسرا شخص کپڑے کے بھیگنے کی پروا نہ کرتا اور نگا نہ ہو تا تو کوئی بڑے نقصان کی بات نہ تھی لیکن جس بات کے لئے اس نے دوسرے کی تحقیر کی تھی۔اسی کا مرتکب اس کو بھی ہو نا پڑا۔(۲۲ جولائی ۱۹۰۷ ء بعد نماز عصر) میں جب پنڈ دادنخان میں مدرس تھا اس وقت میں نے ایک فوت شدہ شخص کو جو میرا ہم وطن تھا رویا میں دیکھا اور معلوم ہوا کہ یہ بہت بیمار ہے۔میں نے کہا کہ تم تو بہت بیمار ہو اور میں نے سنا ہے کہ جو مرجاتا ہے وہ بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔اس پر اس نے اپنے ہاتھ