مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 223
۲۲۳ ار مارچ ۱۹۱۲ ء بعد نماز ظهر) میرے ایک دوست تھے متمول آدمی تھے۔ان سے اکثر فجر کی پہلی رکعت رہ جاتی تھی۔ایک نابینا حافظ صاحب تھے۔وہ ہمیشہ ان کو کہتے کہ تم نماز میں دیر کر کے آتے ہو۔یہ بے ایمانی اور نفاق کی علامت ہے۔جب بار بار ان کو حافظ صاحب نے شدومد کے ساتھ ٹو کا تو انہوں نے حافظ صاحب کی شادی کرادی۔پھر تو حافظ صاحب کی ان سے بھی بد تر حالت ہوئی۔پہلے ہی دن کی نماز فجر قضا ہوئی۔(۱۵ر مئی ۱۹۰۹ ء بعد نماز ظهر) میں نے اس وقت تک ہزا ر ہا روپیہ لوگوں کو قرض دیا لیکن سوائے ایک شخص کے کہ اس نے نو روپیہ قرض لئے تھے اور جس آنکھ سے لئے تھے اس آنکھ سے ادا کئے تھے اور کسی نے اسی آنکھ سے ادا نہیں کئے۔(۳۰) مئی ۱۹۰۹ء) میں لاہور کے ڈبی بازار میں جارہا تھا۔وہاں ایک شخص مجھ سے ملا اور کہا کہ ہم کو تم سے بڑی بڑی امیدیں تھیں۔میں نے کہا کہ یہ بات پہلے بھی کی گئی ہے یعنی قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوا - (۲۸) اکتوبر ۱۹۱۲ء) میں نے اپنے ایک آشنا سے دریافت کیا۔سویلزیشن کا نشان کیا ہے؟ کہا سویلیزیشن کا نشان یہ ہے کہ دو روپیہ کا مقدمہ ہو تو پریوی کو نسل تک پہنچائے اور جعلی نوٹ بنالے۔یہ باتیں بھلا جاہل شخص سے کہاں ہو سکتی ہیں۔