مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 221
۲۲۱ بدکاریاں کی ہیں۔آج تم نے ہمارے سب منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔(۸) مئی ۱۹۰۹ء) ایک ہمارے دوست تھے۔وہ بہت ہی اچھی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔لیکن ان کی ابتدائی عمر بڑے بڑے فسق و فجور میں گزری تھی۔انہوں نے ایک مرتبہ خود ہی اپنا قصہ سنایا کہ میں لاہور میں مدرس تھا۔میں نے سنا کہ امرتسر میں ایک رنڈی ہے جو کسی بڑے بھاری رئیس کی ملازم ہے اور کسی دوسرے شخص کے پاس نہیں جاتی۔وہ کہتے تھے کہ مجھ کو تنخواہ ملی تو میں نے تنخواہ لیکر اپنے شاگردوں سے کہا کہ دیکھو ہم اس قلعہ کو فتح کرتے ہیں۔چنانچہ اپنے شاگردوں کو لے کر امر تسر پہنچے۔(شاگرد بھی کوئی ایسے ہی ہوں گے) رنڈی کے گھر جا کر اس کی نایکہ کے سامنے پگڑی اتار کر رکھ دی اور ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔اس نے توجہ بھی نہ کی۔جب بہت دیر ہو گئی تو شاگردوں نے کہا کہ مولوی صاحب یہ توجہ کرتی ہی نہیں اب آپ چلیں۔جب اس نایکہ نے مولوی صاحب کا لفظ سنا تو کہا کہ آپ مولوی صاحب ہیں ؟ میں نے کہا کہ ہاں میں مولوی ہوں اور یہ سب میرے شاگرد ہیں۔آج مجھ کو تنخواہ ملی تھی وہ سب کی سب لے کر یہاں آیا ہوں۔یہ موجود ہے۔چنانچہ سب اس کے سامنے رکھ دی۔اس پر کچھ ایسا اثر ہوا اور لفظ مولوی صاحب نے کچھ ایسا کام کیا کہ اس نے کہا کہ اچھا چاہے کچھ ہی ہو ہم تمہارا کہنا مانے لیتے ہیں۔ایک رات کے واسطے تم اس رنڈی کو لے جاؤ۔چنانچہ میں اس کو ہمراہ لے کر اسی وقت ریل میں بیٹھ کر لاہور آیا اور کھلی ٹمٹم میں بیٹھ کر دتی دروازہ ہو تا ہوا سر بازار نہایت فخر و غرور کے ساتھ اس رنڈی کو اپنے ساتھ بٹھا کر لایا اور فخریہ شہر میں اس بات کو ظاہر کیا کہ دیکھو ہم کسی سے کم نہیں ہیں۔غرض کہ ان کی حالت بہت خراب تھی۔ان کو ہدایت صرف ایک آیت سن کر ہوئی۔وہ آیت یہ ہے اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ الله۔۔۔۔الخ اس آیت کو سن کر ان کے دل پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ پھر ان کی حالت نہایت ہی اچھی ہو گئی اور بہت ہی اچھی حالت