مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 220
ہی ہوا۔۲۲۰ (۹ار جنوری ۱۹۱۰ء) میرے ایک محسن بزرگ تھے۔وہ بہت بوڑھے تھے۔ان کا نام منشی جمال الدین تھا۔وہ جب بچے موتیوں کی مالا پہنتے تو پہنتے وقت میری طرف دیکھتے اور یہ آیت پڑھا کرتے۔منْهُ حلية تَلْبَسُونَهَا (سوره نحل رکوع ۲) (۱۴ار جون ۱۹۱۱ء ) میاں جمال الدین صاحب وزیر اعظم بھوپال ایک مرتبہ کہنے لگے۔میاں تم چلے نہ جاؤ تو ایک بات کہتا ہوں۔میں نے کہا فرمائیے۔کہا کہ میں تم پر عاشق ہوں۔(۸ مارچ ۱۹۱۰ء) میرا ایک آشنا تھا۔وہ دلی کا رہنے والا تھا۔بعد غدر کے انگریزی پڑھ کر بڑا آدمی بن گیا حتی کہ حج وغیرہ معزز عہدوں تک پہنچا۔اس کا بیٹا پڑھا لکھا آدمی نہ تھا۔اس نے اپنے بیٹے کو مجبور افوج میں بھرتی کرانا چاہا۔ایک بڑے انگریز سے ملا اور سفارش کی۔اس انگریز نے کہا کہ اگر آپ دتی کے رہنے والے نہ ہوتے تو ہم ضرور آپ کے بیٹے کو فوج میں بھرتی کر لیتے۔دیکھو۔بغاوت کا کیسا برا نتیجہ ہوتا ہے۔(۲۶) فروری ۱۹۱۲ء) ایک دفعہ ایک مجلس میں شفاعت کے متعلق گفتگو ہوئی۔میں نے کہا کہ شفاعت اذن سے ہوگی۔میرا ایک آشنا جو میرے خیال میں بڑا نیک تھا میرے قریب ہی بیٹھا تھا۔اس نے مجھ سے کہا کہ یہ تم کیا کہتے ہو کہ شفاعت بالاذن ہو گی؟ ہم نے شفاعت کے بھروسہ بڑی بڑی