مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 219 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 219

۲۱۹ دوست آشنا (۲ جون ۱۹۰۹ء) میرے ایک دوست تھے جن سے مجھ کو بڑی محبت تھی۔ایک مرتبہ میرے پاس آئے وہ چا پینے کے عادی تھے۔میں نے ان کے لئے چاء تیار کرائی اور خوشی کے ساتھ ان سے ذکر کیا کہ میں نے آپ کے لئے چاء تیار کرائی ہے۔یہ سن کر وہ تو بہت ہی ناراض ہوئے اور یہ کہہ کر چل دیئے کہ چاء تو ہم چوہڑے کو بھی پلا دیتے ہیں۔چاء کا احسان ہم پر جتایا گیا۔غرض کہ وہ چاء تیار ہونے سے پہلے ہی چل دیئے۔جبکہ ایک انسان دوسرے انسان کی رضامندی کا طریقہ نہیں معلوم کر سکتا تو خدا تعالیٰ کی رضامندی کی راہ اپنی تجویز سے کیسے معلوم کر سکتا ہے؟ (۲) فروری ۱۹۱۰ء) جب میں رامپور میں رہتا تھا۔اس زمانہ میں میرا ایک دوست عید الفطر کے دن مجھ سے ملنے آیا اور کہا کہ آج سوتیاں کھلاؤ۔میں نے کہا کہ اس محلہ میں جہاں میں رہتا ہوں سب لوگ اس خیال کے ہو گئے ہیں کہ آج سوتیاں پکائیں گے۔ہاں کل ہم تم کو پکوا دیں گے۔وہ سن کر سخت متعجب اور برافروختہ ہوا اور کہا کہ ” جاتو نے سارے محلہ کو خراب کر دیا"۔دو (۲۶) ستمبر ۱۹۰۸ء) میں نے اپنے ایک دوست کو دیکھا کہ ان کا کام نہیں چلتا۔میں نے ان کو تجارت کی ترغیب دی اور تین ہزار روپیہ اپنے پاس سے ان کو دیئے۔انہوں نے وہ تین ہزار روپیہ لیکر کہا کہ بھلا ان میں کیا ہو سکتا ہے؟ کچھ بھی نہ ہو گا۔میں نے کہا کہ تم کو شکر ادا کرنا چاہئے تھا۔لیکن چونکہ تم نے شکر ادا نہیں کیا لہذا تم کو ہر گز نفع نہ ہو گا اور واقعی کچھ نہ ہو گا۔چنانچہ ایسا