مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 213 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 213

۲۱۳ اور دعا مانگنی چاہئے کیونکہ پانی ڈالنے سے روات کام دے سکتی ہے۔پھر دوسری مرتبہ خواب دیکھا کہ ایک قلم دیا گیا جو چرا ہوا تھا۔میں نے سمجھ لیا کہ چرے ہوئے قلم کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔اس کی وجہ یہی تھی کہ میرے اوپر بھی امام کا لفظ آنے والا تھا۔(۳۱) مئی ۱۹۰۹ء) میں نے بڑی بڑی فہرستوں کو دیکھا ہے۔ان میں علم رویا کی کتابوں کو علوم متفرقات میں رکھا ہے میں نے چونکہ قرآن کریم میں رویا کا تذکرہ دیکھا تھا۔لہذا میں اس پر اپنا شرح صدر نہ پاتا تھا۔پھر میری سمجھ میں آیا کہ رویا کی کتابیں قرآن کریم اور حدیث کی لغت کی کتابوں کے ساتھ رکھنی چاہیں۔چنانچہ میں نے اپنے کتب خانہ میں تعطیر الانام اور کامل التعبير وغیرہ کو مفردات راغب، مجمع البحار فائق کے ساتھ رکھا۔اس نکتہ کو مولوی قائم الدین مرحوم سیالکوٹی نے بہت ہی پسند کیا۔یہ نوجوان انگریزی اور عربی کا بڑا ماہر تھا) (۳۱ / مئی ۱۹۰۹ء بعد نماز ظهر) میں نے بڑی تحقیقات کی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی ایک بھی بھرا نہ تھا۔یہ بڑا ہی معرفت کا نکتہ ہے۔( یکم اگست ۱۹۰۸ء) میں نے جب مولانا مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید رحمہ اللہ علیہ کی کتاب الحق الصريح في احكام الميت و الضریح پڑھی تو اس میں یہ بھی دیکھا کہ خدا تعالیٰ کو یہ کہنا کہ وہ عرض بھی نہیں۔جو ہر بھی نہیں۔وہ جسم بھی نہیں وغیرہ بدعت ہے۔یہ میرے بچپنے کا ذکر ہے۔میں ڈرا کرتا تھا کہ کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ جب خدا تعالیٰ کو ایسا کہنا بدعت ہے تو کیا اس کو جو ہر و عرض و جسم وغیرہ کہہ سکتے ہیں؟ غرض کہ جب اس کتاب کا