مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 198 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 198

چار شخصوں یعنی ایک وہاں کے پولیس افسر ایک طبیب - ایک اہل دل اور ایک امیر سے ضرور ملاقات رکھنا۔اور جس شہر میں یہ چاروں نہ ہوں۔وہاں جانا نہ چاہئے۔(۸/جون ۱۹۰۹ء) میرے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب جو بڑے عالم متبحر تھے ہرن پور کو جا رہے تھے۔راستہ میں کسی گاؤں میں تھوڑی دیر کے لئے کسی درخت کے نیچے ٹھرے تو دیکھا کہ وہاں بہت سے جاہل مسلمان جمع ہیں اور بڑے زور شور کی بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ مسلمان کیا ہوتے ہیں اور مسلمین کیا ہوتے ہیں۔بھائی صاحب حیران تھے۔فرماتے تھے کہ میں سوچتا تھا کہ مسلمانوں کی جہالت کہاں تک پہنچ گئی ہے اور یہ اپنی اسی حالت میں خوش ہیں۔(مئی ۱۹۰۹ء) بھیرہ کی جامع مسجد میں میرے بڑے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب و عظ بیان فرمار ہے تھے۔میری اس وقت بہت چھوٹی عمر تھی۔مجھ کو یاد ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں سی موقع پر یہ حدیث پڑھی الدنيا جيفة وطالبها كلاب اور اس کا ترجمہ بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہاں بجائے گلاب کے غراب کیوں نہ فرمایا۔کو ابھی تو مردار خور ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کتے کو کتنی ہی بڑی مقدار میں اس کی ضرورت سے زیادہ مردار مل جائے پھر بھی وہ دوسرے کتے کو دیکھ کر غراتا ہے اور پاس نہیں آنے دیتا۔لیکن مکونے میں یہ بات نہیں۔وہ مردار دیکھ کو شور مچاتا اور اپنے تمام ہم قوموں کو خبر کر دیتا ہے۔کتے میں قومی ہمدردی نہیں اور کوے میں ہمدردی اپنی قوم کی بہت ہے۔اسی وجہ سے کتے کو زیادہ ذلیل ٹھر آ گیا۔