مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 194 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 194

۱۹۴ (دسمبر ۱۹۰۶ء- در مطب) بچوں کو مارنا اچھا نہیں۔اگر موا اولادکم بھی آیا ہے۔جب شریعت نے ان کو مکلف نہیں کیا تو ہم کون جو مکلف کریں۔اولاد کے نیک بنانے کے لئے دعائیں کرو۔میری اور میرے بھائی بہنوں کی تربیت زدو کوب کے ذریعہ سے نہیں ہوئی۔میرے والدین ہم سب پر اور بالخصوص مجھ پر بہت ہی زیادہ شفقت فرماتے تھے۔ہماری تعلیم کے لئے وہ کبھی بڑے سے بڑے خرچ کی بھی پروا نہ کرتے تھے۔میں نے اپنے والد یا والدہ سے کبھی کوئی گالی نہیں سنی۔والدہ صاحبہ جن سے ہزاروں لڑکیوں اور لڑکوں نے قرآن شریف پڑھا ہے وہ اگر کسی کو گالی دیتی تھیں تو یہ گالی دیتی تھیں۔"محروم نہ جاویں " یا نا محروم" اپریل ۱۹۰۷ء بعد درس قبل مغرب اس میدان میں فرش پر بیٹھے ہوئے جہاں اب دفتر بدر ہے اس کی مشرقی افتاده زمین بوجہ طاعون بجائے مسجد کلاں وہاں درس ہوا تھا۔تاریخ درج نہیں۔میرے باپ کو چلنے کی بہت عادت تھی لیکن میں تو زیادہ دور نہیں چل سکتا۔سخت گرمی اور پیاس محسوس ہونے لگتی ہے۔میری ماں بھی بہت کم چل سکتی تھیں۔یہ مجھ میں انہی کا اثر ہے۔میری ماں پڑھی لکھی اور مذہب سے خوب واقف تھیں۔نہایت صحیح عقائد رکھتی تھیں۔فقہ کے بہت مسائل یا دتھے۔(۵ار مارچ ۱۹۰۷ء) میری ماں اچھی پڑھی ہوئی اور قرآن شریف کو خوب سمجھتی سمجھاتی تھیں۔وہ اعوان قوم میں سے تھیں۔میری بھاوج بگہ والے مشہور خاندان میں سے تھیں۔دودھ چھڑانے کا زمانہ مجھ کو یاد ہے۔دودھ چھڑانے کے بعد میری بھاوج نے مجھ کو اکثر اپنے پاس رکھا۔وہ مجھ