مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 182
TAY اس موجودہ رئیس سے کہا کہ آپ ان خدمت گاروں سے اس قدر ڈرتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بڑے خبیث باطن ہوتے ہیں انکی دو دو چار چار روپیہ تو تنخواہ ہوتی ہے۔تھوڑی سی طمع پر یہ اپنے آقا کو زہر دے دیتے ہیں۔ان کو دو روپیہ کی بجائے سو روپیہ مل جائیں اور یہ قتل کر دیں تو ان کا کیا کر سکتے ہیں۔میں نے کہا کہ آپ ان کو موقوف کر سکتے ہیں۔کہا کہ وہ جو دوسرے آئیں گے وہ بھی انہیں کے بھائی بند ہوں گے۔یہ ایک بڑی خطرناک قوم ہے جو ہمارے ارد گرد رہتی ہے۔پھر کہا کہ میری ولی عہدی کے زمانہ میں ان لوگوں نے مجھے ایسا لوٹا ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے ؟ دوسرا نقص یہ ہے کہ یہ لوگ چونکہ شرفا کو زیر و زبر کرتے رہتے ہیں۔اس واسطے ارکان و عمائد میں رئیس کی نسبت بھی اور آپس میں بھی بدظنی بہت پھیل جاتی ہے۔اس بدظنی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ کسی کام کو وہ دل لگا کر نہیں کرتے۔بلکہ ایام گزاری ہی کرتے ہیں۔تیسرا نقص یہ ہوتا ہے کہ اپنی ناپائداری کو دیکھ کر طمع کا دامن بہت دراز کر لیتے ہیں۔چوتھا نقص یہ ہوتا ہے کہ ایجنٹوں اور ریذیڈنٹوں کے کانوں میں عجیب در عجیب متضاد باتیں پہنچتی ہیں جس سے ان کو رئیس سے بڑا تنفر پیدا ہو جاتا ہے۔ایک معزز کو ذلیل کر دینا اور ایک ذلیل کو معزز بنا دینا یہ لوگ اپنے بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھتے ہیں۔میرے سامنے جو جو شرفا بگڑے اور جو جو غربا امیر بنے وہ ایسے واقعات ہیں جن کے بیان سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔دو چار روپیہ کے ملازم لاکھوں روپیہ کے مالدار بن جاتے ہیں اور لاکھوں روپے والے خاک میں مل جاتے ہیں۔میاں لعل دین وہاں کے بڑے رئیسوں اور امراء میں سے تھے اور اصل میں خدمت گاری ان کا عہدہ تھا۔مجھ سے کسی سبب سے ان کو بہت رنج تھا۔میں ایک روز ان کے مکان پر چلا گیا۔ان کا مکان حاجت مندوں سے بھرا پڑا تھا اور وہ ایک کھڑکی میں اونچے بیٹھے ہوئے اپنے منشی سے کچھ حکم لکھا رہے تھے۔کیونکہ وہ خود لکھے پڑھے نہ تھے۔جوں جوں حاجت مند