مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 180 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 180

iA۔نے انگریزوں کا مقابلہ کیا۔اس لئے ان کو پورٹ بلیر( کالا پانی) بھیجا گیا۔جب ہم نے غدر میں انگریزوں کی خدمات کیں تو اس کے بدلہ میں انہوں نے ہم کو کوئی ملک دینا چاہا لیکن ہم نے بجائے علاقہ لینے کے ان کو اور ان کے باپ کو پورٹ بلیر سے بلایا اور انکی ریاست ان کو دلوا کر اپنی لڑکی ان سے بیاہ دی اب اگر یہ ذرا بھی کوئی حرکت کریں تو پورٹ بلیبر موجود ہے اور یہ اننت رام جی ہمارے وزیر اعظم ہیں۔اگر اب ہم موقوف کردیں تو یہ لون تیل کی دکانداری کریں۔پھر مجھے معلوم نہیں کہ مولوی عبد اللہ صاحب کو انہوں نے کیا کہا۔ایک دفعہ مجھے کتاب عبقات الانوار کے دیکھنے کا بڑا شوق ہوا جو حدیث من كنت مولاه فعلی مولاہ کی بحث پر ہے اور میر حامد حسین صاحب نے سات سو صفحات سے زیادہ پر لکھی ہے۔ایک میر نواب نام لکھنو کے شیعہ وہاں طبیب تھے اور میں نے سنا یہ کتاب ان کے پاس ہے۔میں نے ان سے طلب کی تو انہوں نے کہا کہ رات کے دس بجے آپ لیں اور صبح کے چار بجے واپس کر دیں تو میں دے سکتا ہوں۔میں نے سمجھا کہ یہ میری دن بھر برابر کام کرنے کی عادت سے واقف ہیں انہوں نے سوچا ہو گا کہ دن بھر کا تھکا ہوا رات کو سو جائے گا۔کتاب کیا دیکھ سکے گا؟ بہر حال میں نے رات کے دس بجے وہ کتاب منگوائی اور محض خدا تعالیٰ کے فضل سے میں جب اس کے مطالعہ اور خلاصہ اور نقل سے فارغ ہو گیا تو میں نے اپنے ملازم کو آواز دی اور پوچھا کہ اب کیا بجا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ابھی چار نہیں بجے۔میں نے کہا کہ حکیم نواب صاحب کو یہ کتاب دے آؤ۔اس خلاصہ کو میں نے ایک نظر پھر بھی دیکھ لیا۔میں حیران تھا کہ اتنی بڑی محنت کیوں کی گئی ہے۔اس خلاصہ کے مکرر دیکھنے میں میں نے اس کے کچھ جوابات بھی سوچ لئے تھے۔تھوڑے ہی دنوں کے بعد ایک دن شیخ فتح محمد صاحب نے کہا کہ میری اور آپکی آج الہی بخش نام ایک رئیس کے ہاں ضیافت ہے۔میں اور شیخ صاحب دونوں اکٹھے ضیافت کو چلے تو رستہ میں شیخ صاحب نے مجھے سے ذکر کیا کہ میاں الہی بخش ایک جوشیلے شیعہ ہیں۔انہوں نے کوئی مجند بلوایا ہے۔جس کی آپ کے ساتھ بحث ہوگی۔اور شرط یہ ٹھہری ہے کہ ہم جس قدر سنی وہاں دعوت میں شامل