مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 158 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 158

۱۵۸ ہم کو اس سے بہت رنج ہوا ہے۔اب کیا کریں ؟ ہمارے بھائی صاحب نے ستر روپیہ تو آپ سے لے لیا اور اس رئیس سے کہدیا کہ ہم اس کو سمجھا دیں گے۔مجھ کو آکر ملامت کی اور بتادیا کہ وہ ستر روپیہ ہم نے لے لیا ہے۔گویا یہ ایک رقم تھی جو ہم کو وصول ہوئی۔توکل علی اللہ کی خوشی کے مقابلہ میں یہ رقم مجھ کو واپس لینی گوارا بھی نہ تھی۔ان دنوں میں ایک بیمار ایسے فالج میں گرفتار ہو ا جس کا فالج پاؤں کے اطراف عصابہ سے شروع ہوا اور روز مرہ بڑھتا گیا۔پھر ہاتھ بھی مفلوج ہو گئے۔اس کے باپ نے میری طرف رجوع کیا۔طب یونانی اس مرض سے جہاں تک میرا خیال ہے خاموش ہے۔قواعد کلیہ سے کام لینا اس وقت میری طاقت سے باہر تھا۔تیمار دار ڈاکٹروں کا منکر تھا۔ڈاکٹری مسودہ بھی اس وقت میری سمجھ میں پورا نہ آیا۔غرض میں نے کسٹر ایل کلونجی اور شہد پلایا اور مسل کے بعد اس کے فقرات ظہر پر ایک پلسٹر لگا دیا جس سے اس کا سانس ٹھہر گیا۔پھر اسے کچھ کو نین اور فولاد دو تین روز حت فرفیون ہفتہ میں دوبار دینا شروع کیا۔یہی اصول علاج تھے جو اس وقت کئے اور کامیابی ہوئی۔ہماری نواح کے گاؤں میں میری طب کا غیر معمولی چر چاپھیل گیا۔جموں سے ایک شخص جو اس وقت بھی افسر پولیس ہیں۔مدقوق ہو کر علاج کے لئے میرے پاس آئے۔شہر میں وہ ہمارے پڑوسی تھے۔ان کا نام لالہ متھرا داس ہے۔ان کے علاج میں کامیابی ہوئی۔اسی اثناء میں دیوان کر پا رام وزیر اعظم جموں کا گزر پنڈ دادنخان میں ہوا۔بهر حال دیوان صاحب اور لالہ متھر اداس کے ماموں بخشی صاحب نے سرکار جموں سے میرا ذکر کیا۔ان دنوں مجھ کو ایک بیوہ کا پتہ لگا کہ جس کو مختلف اسباب سے میں پسند کرتا تھا۔میں نے اس کے یہاں نکاح کی تحریک کی۔وہ عورت تو راضی ہو گئی۔مگر ملک کا رواج جو بیواؤں کے نکاح کا نہیں ہے اس کے متعلق اس نے عذر کیا اور پھر یہ بھی کہا کہ آپ نکاح کر لیں کچھ دنوں کے بعد میرے ولی راضی ہو جائیں گے۔میں نے ان ولیوں کو اس خیال پر کہ وہ بیوہ کے نکاح کو روکتے ہیں معزول سمجھا۔اور اس نکاح میں جرات کرلی۔قبل اس کے کہ وہ