مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 150 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 150

10۔ساتھ متمول تھے۔انہوں نے تیل کی شیشی جس میں جمالگوٹہ کا تیل تھا اٹھالی اور مجھ سے کہا کہ میں پیتا ہوں۔میں نے کہا کہ یہ خطرناک زہر ہے ایسا نہ ہو کہ ہلاک ہو جاؤ اور ساتھ ہی ہم بھی ہلاک ہوں۔لیکن انہوں نے ذرا بھی پروا نہ کی اور چند قطرے پی گئے۔میں تو بہت ہی گھبرایا مگر وہ پی چکے تھے۔میں نے کہا فعل ما قدر تھوڑی دیر کے بعد ان کو بڑا ہی اضطراب ہوا۔چونکہ وہ حضرت نواب صدیق حسن صاحب مرحوم کی بیوی کے بیٹے اور مدار المهام صاحب کے نواسے تھے۔بڑی خلقت جمع ہو گئی۔بہت سے ڈاکٹر اور حکیم آئے۔مجھے بھی بلوایا۔اب وہ میاں صاحب یہ بھی نہ کہیں کہ ہم نے یہ جبر پی ہے اور نہ میں نے بتایا۔میں کتیرا پیس کر اپنے ساتھ لے گیا۔میں نے کہا۔یہ معاملہ تو پیچھے ہو گا جب ہو گا۔اس وقت ان کو یہ پلا دیا جائے۔ان کی اماں ایسی گھبرائیں جس کا کچھ اندازہ نہیں ہو سکتا۔کچھ مجھے دھمکی بھی دی اور ان کی دھمکی کی شہرت بھی بہت ہو گئی۔میں اپنے مکان پر مطمئن ہو کر واپس چلا آیا کیونکہ کیرے نے انکو بہت فائدہ دیا تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان عورت بہت ساسونے کا زیور اور بہت سے کپڑے لائی اور بدوں کچھ کیسے گٹھڑی رکھ کر فور ابھاگ گئی۔میں نے منشی ہدایت اللہ سے کہا کہ دیکھو یہ عورت کہاں سے آئی اور کیسی گٹھڑی لائی۔جب اس کو کھول کر دیکھا تو وہ قیمتی کپڑوں اور زیوروں سے بھری ہوئی تھی۔میں بہت گھبرایا کہ ایک معاملہ توطے نہیں ہوا یہ دوسرا کیا معاملہ ہے۔تھوڑی دیر کے بعد ایک بوڑھی عورت اتنی ہی چیزیں اور لے کر آئی اور رکھ کر چلی گئی۔میں نے منشی ہدایت اللہ سے کہا کہ دیکھو تو سہی یہ کہاں کی عورتیں ہیں اور کیا بات ہے۔وہ اس کے پیچھے گئے۔معلوم ہوا کہ حضرت پیر ابو احمد صاحب مجددی کے گھر سے آئی تھیں۔کچھ وقفہ کے بعد حضرت پیر صاحب تشریف لائے اور بہت جھنجلا کر کہا کہ آپ ابھی تک یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔یہاں بڑا فساد ہونے والا ہے۔ہمارے گھر چلو۔میں نے کہا وہ لڑکا انشاء اللہ تعالیٰ اچھا ہو جائے گا اور کوئی فساد وغیرہ نہ ہو گا۔تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے کہا کہ ”یہاں رہنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔پھر فرمایا۔کیا ہمارے گھر والوں نے زیور نہیں بھیجا؟ جس قدر رو پید ان لوگوں سے لیا ہے