مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 149 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 149

جائیں۔یقین ہے کہ آپ بڑی مہربانی سے رکھیں گے۔انہیں نو مسلموں میں ہمارے دوست ہدایت اللہ بھی تھے جو بہت کمسن تھے۔میں نے کہا۔ہاں میں بخوشی ان کی خدمت گذاری کو موجود ہوں۔مجھے کو ابھی اپنے مکان پر واپس جانا ہے آپ میرے ساتھ کردیں۔مولوی صاحب نے کہا۔ان کے ساتھ ان کے بسترے اور سب ضروری سامان موجود ہے۔میں نے کہا میرے آدمی نیچے بیٹھے ہیں۔وہ سب اٹھا کر لے چلیں گے۔ان کو دے دو۔ان سپاہیوں سے اسباب اٹھوا کر ہم بخیر و عافیت منشی صاحب کی خدمت میں پہنچ گئے۔وہ بہت ہی خوش اور احسان مند ہوئے اور ہم سب کو اپنی بگھیوں پر سوار کرا کر کیمپ میں لے آئے۔میں نے کہا کہ میں تھوڑے ہی دنوں آپ کے پاس رہ سکتا ہوں اور میاں محمد عمر کے رسولی ہے ، یہ بہت دنوں کے بعد جائے گی اور میں گھر میں اطلاع دے کر بھی نہیں آیا۔انہوں نے فرمایا کہ آپ ضرور ٹھہریں اور گھر کے لئے پانسو روپیہ کا نوٹ بھیج دیں۔میں بہت گھبرایا کہ ہم تو بارہ سو کے مقروض ہو کر نکلے تھے اور یہ تو پانسو ہی دیتے ہیں۔شائد یہ وہ جگہ نہیں جہاں ہمیں جانا ہے۔خیر میں نے وہ نوٹ تو اس ہندو کو بھجوا دیا اور گھر میں لکھا کہ آپ مطمئن رہیں۔تھوڑے ہی دنوں کے بعد منشی صاحب نے سات سو رو پید اور دیا۔اور مجھ سے کہا کہ جس طرح ممکن ہو آپ بھوپال تک چلیں۔میں نے سمجھا کہ میرا قرضہ تو پورا ہو ہی گیا ہے اب جہاں چاہیں جاسکتے ہیں۔بھوپال میں دوسری مرتبہ چنانچہ میں منشی صاحب کے ہمراہ بھوپال پہنچا۔منشی صاحب نے کچھ ماہانہ اپنے پاس سے اور کچھ سرکار سے مقرر کر دیا اور فرمایا کہ لوگوں سے بھی فیس لے لیا کریں۔غرض وہاں مجھ کو بہت آرام ملا۔یہ میرے دوبارہ بھوپال جانے کی وجہ تھی۔میں اب تک منشی صاحب کے واسطے بہت دعائیں کرتا ہوں۔بھوپال میں ہمارے ایک مریض محمد عمر منشی جمال الدین کے نواسے تیز طبیعت اس کے