مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 9
۹ الشان انسان تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دامن کے ساتھ وابستہ ہو کر آپ کے بعد آپ کے خلیفہ اور جانشین ہونے کی وجہ سے تاریخ کسی طرح آپ کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔مگر بعض نادانوں نے تابع اور متبوع کے حقیقی مقام کو شناخت نہ کرنے کی وجہ سے یہاں تک لکھ دیا کہ وہ معاذ اللہ اپنے متبوع سے علم و تقویٰ میں بڑھے ہوئے تھے " حالانکہ آپ کی تمام بڑائی اور آپ کی تمام عظمت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے روحانی وابستگی کی وجہ سے تھی۔آپ خود فرماتے ہیں کہ میں ساری آمدنیوں کو چھوڑ کر جو دو سرے شہروں میں مجھے ہو سکتی ہیں کیوں قادیان میں رہنے کو ترجیح دیتا ہوں۔اس کا مختصر جواب یہی دوں گا کہ میں نے یہاں وہ دولت پائی ہے جو غیر فانی ہے ، جس کو چور اور قزاق نہیں لے جاسکتا۔مجھے وہ ملا ہے جو تیرہ سو برس کے اندر آرزو کرنے والوں کو نہیں ملا۔پھر ایسی بے بہا دولت کو چھوڑ کر میں چند روزہ دنیا کے لئے مارا مارا پھروں۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اب کوئی مجھے ایک لاکھ کیا، ایک کروڑ روپیہ یومیہ بھی دے اور قادیان سے باہر رکھنا چاہے، میں نہیں رہ سکتا۔ہاں امام علیہ السلام کے حکم کی تعمیل میں پھر خواہ مجھے ایک کوڑی بھی نہ ملے۔پس میرے دوست میرا مال میری ضرورتیں اس امام کی اتباع تک ہیں اور دوسری ساری ضرورتوں کو اس ایک وجود پر قربان کرتا ہوں"۔( سورہ جمعہ کی تفسیر صفحہ ۶۳ ) -: اور جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے احباب سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں : ” ہماری بابت کچھ بھی خیال نہ کرو۔ہم کیا اور ہماری ہستی کیا۔ہم اگر بڑے تھے تو گھر رہتے۔پاکباز تھے تو پھر امام کی ضرورت ہی کیا تھی۔اگر کتابوں سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا تھا تو پھر ہمیں کیا حاجت تھی۔ہمارے پاس بہت سی