مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 136 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 136

اور تقدس اور نیکی کا بڑا معتقد تھا۔ان کو دیکھا کہ ان ان پڑھ پیر صاحب کے پاؤں پر ماتھا رکھے ہوئے اور ہاتھ سے ان کا پیر دبائے ہوئے بیٹھے ہیں۔میں دیکھ کر بے تاب ہو گیا۔میں نے کراہت سے ان کو دیکھ کر پیر صاحب کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ آپ کی بیوی بیمار ہے۔آپ کا آدمی گیا تھا۔چلئے اس کو دیکھ لوں۔انہوں نے کہا کہ ایک مسئلہ ضروری ہے۔پہلے اس کی نسبت آپ سے کچھ دریافت کرنا ہے۔میں نے کہا۔آپ تو پیر ہیں۔آپ کو مسائل سے کیا غرض پڑی ہے۔آج کل تو پیر مسائل سے قطعا سبکدوش ہیں۔ابھی میں کھڑا ہی تھا کہ انہوں نے دوبارہ اصرار کیا مگر وہ ایسے ذہین اور فہیم تھے کہ فورا تاڑ گئے کہ یہ زمین پر تو بیٹھے گا نہیں۔چارپائی پر ہی بیٹھے گا۔یہ ان کی فراست نہایت صحیح تھی۔جلد تاڑ کر کہا کہ او ہو ! علماء تو سب نیچے بیٹھے ہیں اور یہ رسول کے جانشین ہیں۔ہمارے نوکروں نے بڑی غلطی کی کہ ہمارے لئے چارپائی بچھائی۔اپنے نوکروں سے کہا کہ جلد چارپائی اٹھاؤ۔چارپائی کے اٹھنے سے جگہ بھی فراخ ہو گئی۔پیر صاحب بھی نیچے ہی بیٹھ گئے۔میں نے کہا کیا مسئلہ ہے ؟ کام سب خدا تعالی کے فضل سے ہی ہوتے ہیں۔اصل محرک مولوی صاحب کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی اور اس میں ایک جگہ انہوں نے اپنی انگلی رکھ چھوڑی تھی۔میں سمجھا کہ کوئی ایسا مسئلہ ہو گا جس کا اس کتاب میں ذکر ہے۔میں نے خدا تعالیٰ کے کامل رحم اور بندہ نوازی سے اس کتاب کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر کہا کہ بھائی صاحب یہ کیا کتاب ہے۔تو مولوی صاحب نے بڑے غضب سے کہا کہ آپ میرے بھائی نہیں ہیں۔حالانکہ میں رشتہ میں ان کو بھائی سمجھتا تھا۔میں نے کہا۔یہ تو کوئی ناراض ہونے کی بات نہیں اگر اخوت اسلامی کے سبب آپ بھائی ہونا نہیں مانتے تو ہمارے یہاں سکھوں کو بھی بھائی کہتے ہیں۔تب انہوں نے اپنے ہاتھ سے کتاب چھوڑ دی اور کہا کہ اچھا ان معنوں میں آپ لے لیں۔جہاں انکی انگلی رکھی ہوئی تھی میرے ہاتھ میں آکر وہ مقام تو مل گیا۔میں اپنے مولا کی کس مہربانی کا ذکر کروں۔وہ کتاب دلائل الخيرات مطبع کانپور کی تھی۔میں نے ہاتھ میں لے کر جب اس کو کھولا تو اس کے ساتویں صفحہ پر میری نظر پڑی اور اس میں اذان کی دعا وہی لکھی تھی جو میرے ہاتھ سے لکھی