مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 122 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 122

۱۲۲ کہ وہ فقہاء کے مقابلہ میں ہیں اور یہ تو سلطان جی نے لکھا ہے۔سلطان جی تو عرش پر پہنچنے والے ہیں انکے سامنے ابو حنیفہ وغیرہ ملا لوگوں کی کیا حقیقت ہے۔تب میں نے فیصلہ کیا کہ محبت اور تقلید بھی بڑی تکلیف میں ڈالنے والی چیز ہے۔وہ مدینہ میں اس وجہ سے رہتے تھے که حالت یقظہ میں نبی کریم کو دیکھیں۔میں نے ایک دفعہ رویا میں نبی کریم میں کو دیکھا۔آپ نے فرمایا کہ "تمہارا کھانا تو ہمارے گھر میں ہے لیکن نبی بخش کا ہم کو بہت فکر ہے " ان دنوں میں میں نے نبی بخش کو بہت ڈھونڈا باوجودیکہ میرے ساتھ کے حجرہ میں رہتے تھے مگر ملاقات نہیں ہو سکی اور وہ حجرہ میں آئے ہی نہیں۔بہت دنوں کے بعد جب ملے تو میں نے کہا آپکو کوئی تکلیف ہو تو بتا ئیں اور ضرورت ہو تو میں آپ کو کچھ دام دے دوں۔کہا کہ مجھ کو بہت شدت کی تکلیف تھی مگر آج مجھ کو چونہ اٹھانے کی مزدوری مل گئی ہے اور پیسے مزدوری کے ہاتھ آگئے ہیں۔اس لئے ضرورت نہیں۔مدینہ طیبہ میں ایک ترک کو مجھ سے بہت محبت تھی۔اس نے کہا کہ اگر کوئی کتاب پسند ہو تو ہمارے کتب خانہ سے لے جایا کریں۔گو ہمارا قانون نہیں ہے مگر آپ کے اس عشق و محبت کی وجہ سے جو آپ کو قرآن کریم سے ہے۔آپ کو اجازت ہے۔میں نے کہا کہ مسئلہ ناسخ و منسوخ کے متعلق کوئی کتاب دو۔انہوں نے مجھے ایک کتاب دی۔جس میں چھ سو آیات منسوخ لکھی تھی۔مجھے یہ بات پسند نہ آئی۔ساری کتاب کو پڑھا اور مزا نہ آیا۔میں اس کتاب کو واپس لے گیا اور کہا کہ میں جو ان آدمی ہوں اور خدا کے فضل سے یہ چھ سو آیتیں یاد کر سکتا ہوں مگر مجھے یہ کتاب پسند نہیں۔وہ بہت بوڑھے اور ماہر شخص تھے۔انہوں نے ایک اور کتاب دی جس کا نام اتقان تھا اور ایک مقام اس میں بتایا جہاں ناسخ و منسوخ کی بحث تھی۔خوشی ایسی چیز ہے کہ میں نے فوز الکبیر کو جو بمبئی میں پچاس روپے کی خریدی تھی ابھی پڑھا بھی نہیں تھا۔میں اتقان کو لایا اور پڑھنا شروع کیا۔اس میں لکھا تھا کہ انیس آیتیں منسوخ ہیں۔میں اس کو دیکھ کر بہت ہی خوش ہوا اور میں نے سوچا کہ انہیں یا ہیں آیتوں کو تو فور زیاد کرلوں گا۔گو مجھے خوشی بہت ہوئی۔مگر مجھے کو ایسا قلب اور علم دیا گیا