مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 118
کنانہ کہاں ہے؟ پھر میں نے پوچھا کہ بطحی کہاں ہے۔جب کہیں پتہ نہ لگا تو میں بہت حیران ہوا۔ایک شخص نے جو خشک ساوہابی تھا ، مجھ سے کہا کہ دیکھا! کہاں تک یہ نوبت پہنچی ہے۔پھر اس نے پتہ دیا کہ جنه المعالی (جو وہاں کا مشرقی قبرستان ہے) وہی محسب ہے۔وہی خیف بنی کنانہ اور بطحی ہے۔میں وہاں کی مسجد میں گیا تو تعجب اور بھی بڑھ گیا۔وہاں چند ضعیف العمر بنگالی بیٹھے تھے۔تیسرا تعجب وہاں یہ ہوا کہ عرفات میں میں نے دیکھا کہ لوگ اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے کپڑے کا پلہ پکڑ کر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ہلاتے ہیں۔میں اس نظارہ کو دیکھ کر بہت ہی متعجب ہوا۔ادھر ادھر لوگوں سے پوچھا تو لوگوں نے کہا پہلے یہ کپڑا اس سامنے والی پہاڑی سے ہلتا ہے۔وہاں اصلیت کا پتہ لگے گا۔میں تو جو شیلا جوان تھا۔دوڑا۔اس پہاڑی کے چاروں طرف پھرا۔آخر ایک رستہ نظر آیا جس کے ذریعہ اوپر چڑھ گیا۔وہاں بہت سے ترک دیکھے جو سنگینیں چڑھائے ہوئے تھے۔انہوں نے مجھے اشارہ سے منع بھی کیا۔مگر میں رکا نہیں۔زیادہ چھیٹر انہوں نے بھی نہ کی۔جب اوپر پہنچاتو دیکھا کہ ایک اونٹنی پر ایک ترک سوار ہے۔اس کے ہاتھ میں کتاب ہے اور چاروں طرف پہرہ دار کھڑے ہیں۔میں ان سپاہیوں کو بھی چیرتا ہوا اس اونٹنی کے پاس جا کھڑا ہوا۔میں نے بہت کوشش کی کہ اس کتاب کا کچھ حصہ سنوں۔مگر کوئی ایک لفظ بھی سمجھ میں نہ آیا۔مگر یہ بات حل ہو گئی کہ وہ ترک جس کتاب کو پڑھ رہا تھا تھوڑے وقفہ کے بعد بایاں ہاتھ ہلا تا تھا۔اس کو دیکھ کر پہاڑی کے لوگ کپڑا ہلاتے تھے۔ترکی یونی میں جانتا نہ تھا اور نہ اب جانتا ہوں اور وہاں سوائے ترک سپاہیوں کے اور کوئی بھی نہ تھا۔میں نیچے اتر آیا۔آخر پتہ لگا کہ یہ امام صاحب خطبہ پڑھ رہے ہیں اور جہاں الله أكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ NANGA NANGANANA الله وَ اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ - وَلِلَّهِ الْحَمْدُ کا مقام آتا ہے تو یہ اپنا ہاتھ ہلاتے ہیں اور لوگ اپنا کپڑا ہلاتے ہیں۔اب یہ رسم رہ گئی ہے۔اللهُ أَكْبَرُ کوئی نہیں کہتا۔