مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 111
☐ میں وہ کنجی بھی تھی۔میں نے اس ترک سے کہا۔اگر ان کنجیوں کے ذریعہ سے چور پکڑنے منظور ہیں تو یہ کنجی تو میری ہے۔مجھ کو پکڑ لو مگر یہ کنجی مجھ کو دے دو۔اول تو وہ کچھ خفا سا ہوا اور کہا۔ہم تم کو پکڑلیں گے۔میں نے کہا کچھ حرج نہیں مگر میری کنجی مجھے دے دو۔آخر وہ تمام کنجیوں کا گچھا میری طرف پھینک کر چلا گیا۔میں نے وہ کنجی صندوق والے صاحب کو دی کہ لیجئے۔وہ کچھ بہت ہی شرمندہ سے ہو گئے اور پھر مجھ سے عذر کرنے لگے۔مکہ معظمه میں کوئی بزرگ محمد حسین سندھی تھے ان کے مکان پر ہم اترے۔انہوں نے اپنا بیٹا ہمارے ساتھ کر دیا کہ طواف القدوم کرا دے۔مطوفون کی ہوشیاری اور ذہانت کبھی میرے دل سے فراموش نہیں ہوئی۔اور میں اب تک حیران ہوتا ہوں کہ وہ کیسے ہوشیار ہوتے ہیں۔ہم جب مسجد بیت اللہ میں داخل ہوئے تو مطوف کی پہلی آواز یہ تھی کہ یا بیت الله - اسکی اس آواز پر میں نے کہا کہ میں مسنون دعا ئیں جانتا ہوں۔میں خود پڑھ لوں گا تو دوسری آواز یہ تھی یا رب البیت اسکی اس ذہانت پر اس قدر تعجب ہوا کہ آج تک بھی وہ تعجب دور نہیں ہوا۔تمام مراتب میں اس نے سفن کو نہایت احتیاط سے مد نظر رکھا۔میں نے کسی روایت کے ذریعہ سنا تھا کہ جب بیت اللہ نظر آئے تو اس وقت کوئی ایک دعا مانگ لودہ ضرور ہی قبول ہو جاتی ہے۔میں علوم کا اس وقت ماہر تو تھا ہی نہیں جو ضعیف و قوی روایتوں میں امتیاز کرتا۔میں نے یہ دعا مانگی۔الہی میں تو ہر وقت محتاج ہوں۔اب میں کون کونسی دعا مانگوں۔پس میں یہی دعا مانگتا ہوں کہ میں جب ضرورت کے وقت تجھ سے دعا مانگوں تو اس کو قبول کر لیا کر۔روایت کا حال تو محدثین نے کچھ ایسا ویسا ہی لکھا ہے مگر میرا تجربہ ہے کہ میری تو یہ دعا قبول ہی ہو گئی۔بڑے بڑے نیچریوں۔فلاسفروں۔دہریوں سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور ہمیشہ دعا کے ذریعہ مجھ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ایمان میں بڑی ترقی ہوتی گئی۔مکہ معظمہ میں پہلی مرتبہ مکہ معظمہ میں میں نے شیخ محمد خزرجی سے ابو داؤد اور سید حسین سے صحیح مسلم اور