مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 107 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 107

مولوی صاحب کے اس نکتہ نے اب تک مجھے کو بڑی راحت پہنچائی۔وجزاهم الله تعالى۔حرمین کے لئے سفر مجھ کو اس آپ نے جو بھوپال میں آتا تھا۔بھوپال سے جدا ہونے کے بعد بھی سفر میں نہیں چھوڑا مگر اس کا یہ قاعدہ تھا کہ پندرہ دن کے بعد صرف ایک دن کے لئے ہوا کرتا تھا۔رستہ میں برہان پوراسٹیشن پر میں اترا۔جب شہر میں گیا تو ایک آدمی مولوی عبد اللہ نام مجھے کو ملے۔انہوں نے میری بڑی خاطر مدارات کی اور کہا کہ میں تمہارے باپ کا دوست ہوں۔جب میں رخصت ہوا تو انہوں نے مجھ کو مٹھائی کی ایک ٹوکری دی۔جب راستہ میں ٹوکری کھولی تو اس میں ایک ہزار روپیہ کی ہنڈی مکہ معظمہ کے ایک ساہوکار کے نام تھی اور کچھ نقد روپیہ بھی تھا۔اس ہنڈی میں لکھا تھا کہ نورالدین کو ایک ہزار روپیہ تک جب وہ طلب کریں دے دو اور ہمارے حساب میں لکھ لو۔اس کے حوصلہ کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا۔اگر چہ میں نے وہ ایک ہزار روپیہ وصول نہیں کیا مگر ان کے حوصلہ کی داد دینی ضروری ہے۔ان مولوی عبد اللہ صاحب نے بیان کیا کہ میں ساہی وال ضلع شاہ پور کا باشندہ ہوں۔میں مکہ معظمہ میں حج کو گیا۔اس زمانہ میں میں بہت ہی غریب تھا۔مکہ معظمہ میں صبح سے شام تک " لقمة الله مسکین " کی صدا سے بھیک مانگتا تھا۔پھر بھی کافی طور پر پیٹ نہیں بھرتا تھا اور تمام دن بازاروں گلی کوچوں میں پھر تا رہتا تھا۔ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ تو اگر کبھی بیمار ہو جائے اور اتنا زیادہ نہ چل سکے تو بھوک کے مارے مرجائے گا۔اس تحریک کے بعد میں نے ارادہ کیا کہ بس آج ہی مر جائیں گے اور اب سوال نہ کریں گے۔پھر میں بیت اللہ شریف میں گیا اور پر وہ پکڑ کر یوں اقرار کیا کہ ”اے میرے مولی - گو تو اس وقت میرے سامنے نہیں۔مگر میں اس مسجد کا پردہ پکڑ کر عہد کرتا ہوں کہ کسی بندے اور کسی مخلوق سے اب نہیں مانگوں گا۔یہ معاہدہ کر کے پیچھے ہٹ کر بیٹھ گیا۔اتنے میں ایک شخص آیا۔اس نے میرے ہاتھ پر ڈیڑھ آنہ کے پیسے (انگریزی سکے) رکھ دیئے۔اب میرے دل میں یہ شک ہوا کہ میری شکل سائل کی سی ہے۔گو میں نے زبان سے سوال نہیں کیا۔اس لئے میرے